کبھی بھی ہیٹر پر کپڑے نہ سکھائیں اور نہ ہی اپنے گھروں میں خوشبو والی موم بتیاں لگائیں

کبھی بھی ہیٹر پر کپڑے نہ

کائنات نیوز! آج کے دور میں سرد موسم کے دوران ہیٹر پر کپڑے سکھانا معمول بن چکا ہے تاہم اب سائنسدانوں نے اس عمل کے متعلق اور گھر کے اندر خوشبو والی موم بتیاں جلانے ،لکڑی جلا کر حدت پیدا کرنے کے بارے میں سخت وارننگ جاری کر دی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق گھر کے اندر ہیٹر پر کپڑے سکھانا، خوشبو والی موم بتیاں جلانا اور لکڑی جلانا دمے سمیت نظام تنفس کی کئی خطرناک بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔

سکاٹ لینڈ کے ماہرین کی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جب گھر کے اندر ہیٹر پر کپڑے سکھائےجاتے ہیں تو نمی بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے جو پھپھوندی کی افزائش کا سبب بنتی ہے اور یہ پھپھوندی نظام تنفس کی ایسپرجیلوسس (Aspergillosis)نامی بیماری پیدا کرتی ہے۔ ایسے میں گھر میں جو لوگ دمہ کے مریض ہوں وہ اس سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔خوشبو والی موم بتیوں کے نقصانات بارے بات کرتے ہوئے ماحولیاتی ماہر ایما ہیمیٹ کا کہنا تھا کہ ان موم بتیوں سے ’وولیٹائل آرگینک کمپاﺅنڈز (Volatile organic compounds)کا اخراج ہوتا ہے جو آسانی کے ساتھ بخارات یا گیس کی شکل اختیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کئی تحقیقات میں ثابت ہو چکا ہے کہ یہ کمپاﺅنڈز بچوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔ یہ انہیں غیرمحسوس طریقے سے دمے کا مریض بناتے ہیں جو ان کے جوان ہونے پر خوفناک شکل میں سامنے آتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ سانس اور عصبی نظام کی دیگر بیماریوں کا بھی سبب بنتے ہیں۔ یہ کمپاﺅنڈز صرف خوشبو والی موم بتیوں سے ہی نہیں بلکہ گھر کے اندر مٹی کا تیل، لکڑی، کوئلہ، قدرتی گیس وغیرہ جلانے اور سگریٹ پینے سے بھی فضاءمیں شامل ہوتے اور گھر میں سانس لینے والوں کے لیے کئی طرح کے طبی مسائل کا سبب بنتے ہیں۔اس لئے آپ احتیاط برتیں۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!