استعفوں کا ایٹم بم تیار!وزیراعظم کے پاس31جنوری تک گھرجانے کا موقع ہے،بلاول

کائنات نیوز! چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اپوزیشن نے استعفوں کا ایٹم بم تیار کرلیا ، وزیراعظم عمران خان کو 31جنوری تک موقع دیتے ہیں وہ گھر چلے جائیں۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ لاہور کے کارکنوں نے 13 دسمبر کے جلسے کیلئے بہت محنت کی ،حکومت پر جوش کارکنوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی

۔انہوں نے کہاکہ ملک میں جمہوری نظام کی کامیابی کیلئے ڈائیلاگ کی پالیسی بھی ضروری ہےبلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی مزاحمت اور تحریکیں چلانے کی ایک تاریخ ہے اور اگر اس لانگ مارچ کو کامیاب ہونا ہے تو وہی لوگ جو ضیا کی آمریت کا مقابلہ کرتے تھے، جو مشرف کی آمریت کا مقابلہ کرتے تھے ان کو مل کر اس سلیکٹڈ نظام کا مقابلہ کرنا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے لوگوں میں جو جوش ہے وہ آپ کے سامنے ہے اور یہ حکومت اور اس کے نمائندے ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے عوام کو متحرک رکھنے کا عمل جاری رکھا ہوا ہے اور ہمارا مطالبہ بھی آپ کے سامنے ہے کہ 31جنوری تک عمران خان کو مستعفی ہونا پڑے گا۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کی صورت میں جس مشکلات کا سامنا اس ملک کے عوام کررہے ہیں، وہ عوام کی مشکلات میں کمی کے لیے کوئی کوشش نہیں کررہے۔ان کا کہنا تھا کہ چینی، آٹے اور پیٹرول کا بحران اور اب سردیوں کے مہینے ہیں تو ہم گیس کے بحران کی بھی توقع کررہے ہیں، ایسا نہیں کہ ہم اس بحران سے نمٹ نہیں سکتے تھے بلکہ یہ اس حکومت کی نالائقی اور نااہلی کی وجہ سے ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے عوام ضرورت سے زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا رہے ہیں، آج پاکستان کے لیے انتہائی شرمندگی کی بات ہے کہ مہنگائی کی شرح میں ہم پورے خطے سے آگے ہیں، ہماری ترقی کی شرح کی بات کی جائے تو ہم پورے خطے سے پیچھے ہیں، ہماری مہنگائی کی شرح افغانستان سے زیادہ اور ترقی کی شرح افغانستان سے بھی کم ہے

۔بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ یہ اگر پاکستان کی تبدیلی ہے کہ حکومت نے اس حکومت کی نااہلی کے بوجھ کو اٹھانا ہے تو پورے پاکستان کی آواز ہے کہ عمران خان کو جانا پڑے گا۔شہباز شریف سے ملاقات کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ ہمارے ان سے ملنے کا مقصد تعزیت کرنا تھا، یقیناً دو سیاستدان ملتے ہیں تو سیاست پر بات تو ہوتی ہی ہے تو ہمارا زور اتحاد اور ساتھ مل کر چلنے پر تھا اور پی ڈی ایم میں تمام طاقتوں کا یہ مطالبہ ہے کہ 31جنوری تک عمران خان مستعفی ہو۔بلاول نے کہا کہ 16دسمبر ہماری تاریخ میں بہت بھاری دن ہے، مشرقی پاکستان یعینی بنگلہ دیش ہم سے الگ ہوا اور 16دسمبر 2014 کو آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردی کا حملہ کیا گیا اور وہ بھی ہماری ادوں میں تازہ ہے۔انہوں نے کہا کہ خصوصاً اس حکومت نے جس طریقے سے اے پی ایس کے بچوں اور والدین کو لاواراث چھوڑا ہے، ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جس طریقے سے ان کے دور میں اے پی ایس واقعے میں ملوث احسان اللہ احسان جیل سے بھاگا ہے، ہم سمجھتے ہیں عمران خان اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں کہ ہم ایمنسٹی نہیں دیں گے، چھوڑیں گے نہیں کیونکہ یہ دنیا کے سامنے ہے کہ عمران خان نے دہشت گردوں کو چھوڑنا ہے، ملک دشمنوں کو چھوڑنا ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نے بند کرنا ہے تو جمہوری قوتوں کو بند کرنا ہے، سیاسی مخالفین کو بند کرنا ہے، بلاگرز اور میڈیا مالکان کو بند کرنا ہے مگر دہشت گردوں اور اس ملک کے دشمنوں کے خلاف ایکشن لینے کی ہمارے وزیراعظم میں ہمت نہیں ہے

۔ان کا کہنا تھا کہ ہم اے پی ایس کی برسی کے دن وزیراعظم کا استعفیٰ اس لیے بھی مانگتے ہیں کہ اس نالائق، نااہل اور ناجائز وزیر اعظم کے دور میں اے پی ایس کے بچوں کے قاتل کو آزادی ملی ہے اور یہ حکومت ان بچوں کے قاتل کو جیل میں ڈالنے کی کوئی کوشش نہیں کررہی۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!