جڑ سے لے کر پھل تک کھائے جانے والا پودا کنول ہاتھوں پیروں کی جلن میں کس طرح مفید ثابت ہوتا ہے؟ جانیں

پودا کنول ہاتھوں

کائنات نیوز! قدرت نے انسان کو بہت بڑی بڑی نعمتوں سے نوازہ ہے مگر ان نعمتوں کا ادراک ہونا بھی بہت ضروری ہے اس کے بعد ہی انسان اس قابل ہو سکتا ہے کہ وہ ان نعمتوں سے اچھے طریقے سے فائدہ اٹھا سکے انہی نعمتوں میں سے ایک نعمت کنول کا پودا بھی ہے جو کہ اگرچہ کیچڑ میں کھلتا ہے مگر اس کی جڑ سے لے کر پھول تک ہر ہر حصہ طبی فوائد سے بھر پور ہوتا ہے اور اس کا استعمال عام غذا کے طور پر کیا جاتا ہے-

کنول کا پھول مختلف رنگوں کا ہوتا ہے اس کو گل نیلو فر کہتے ہیں یہ سفید ، ہلکا پیلا یا گلابی ہو سکتا ہے یہ پھول طبی حوالے سے بہت مفید ہوتا ہے اس کو سونگھنے سے بے خوابی کے مرض میں آرام ملتا ہے- اس کے علاوہ ان پھولوں کو خشک کر کے اس کا شربت بنایا جاتا ہے جس کو شربت نیلوفر کہتے ہیں یہ شربت ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے بہت مفید ہوتا ہے- اس کے علاوہ ہاتھوں پیروں کی جلن کی صورت میں بھی اس کے استعمال سے افاقہ ہوتا ہے یہ جگر اور دل کے لیے بھی بہت مفید ہوتا ہے اور یرقان کے مریضوں کو اس کے استعمال سے بہت فائدہ ہوتا ہے-اس کا پھل سبز رنگ کا قیف نما ہوتا ہے جس کے اندر اس کے بیچ موجود ہوتے ہیں- یہ بیچ عام طور پر لوگ کھاتے ہیں یہ بیچ بڑھتی عمر کے اثرات کو کم کرتے ہیں اس کے علاوہ ذيابطیس کے مریضوں کے لیے ان بیچوں کا استعمال بہت مفید ہوتا ہے اور یہ خون میں شوگر کے لیول کو کم کرتے ہیں ہاضمے کے عمل کو بہتر بناتے ہیں-کنول کی جڑوں کے فوائدکنول کی جڑیں معدنیات سے بھرپور ہوتی ہیں اس میں بڑی مقدار میں وٹامن سی موجود ہوتا ہے اس کے علاوہ ان کا استعمال وزن کم کرنے میں بہت مددگار ثابت ہوتا ہے یہ ہاضمے کے عمل کو بہتر بنا کر میٹابولزم کے عمل کو تیز کرتا ہے-کنول کے پتے سائز کے اعتبار سے بہت بڑے ہوتے ہیں اور اس کے علاوہ یہ کافی مضبوط بھی ہوتے ہیں ہندوستان میں ان پتوں میں کھانے پینے کی اشیا کو فروخت کیا جاتا ہے اور ان کو بطور پیکنگ کے استعمال کیا جاتا ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں