ایک عیسائی خاتون جو اپنی دوست کی اسلامی کاوشوں سے دائرہ اسلام میں داخل ہوئی ،قبول اسلام کے بعدکا واقعہ

دائرہ اسلام

کائنات نیوز! یہ سچی کہانی ناروے سے تعلق رکھنے والی ایک عیسائی خاتون کی ہے جو اپنی ایک مسلمان دوست کی اسلامی کاوشوں سے متاثر ہو کر دائرہِ اسلام میں داخل ہوئی۔۔۔!! قبول اسلام کے بعد نماز اور وضو سکھانے کی ذمہ داری اُس کی مخلص دوست نے اپنے ذمہ لی۔ جب وہ دونوں مسجد پہنچیں تو نمازعصر کا وقت ہو چکا۔ دوست نے اُسے وضو سکھایا اور کہا کہ “آپ یہاں ایک طرف بیٹھ جائیں، میں باجماعت نماز پڑھ لوں پھر

آپ کو نماز سکھاؤں گی۔ ” وہ نومسلم خاتون کہنے لگی “مجھے اگرچہ نماز کے الفاظ نہیں آتے لیکن کیا میںجماعت میں شامل ہو سکتی ہوں؟” دوست نے کہا “کیوں نہیں، یقیناً آپ شامل ہو سکتی ہیں۔۔!” اور پھر امام کیساتھ تکبیر کہہ کر دوست نے ہاتھ بلند کئے تو اُس خاتون نے بھی امام کے پیچھے تکبیر کہی اور سینے پر ہاتھ باندھ لئے۔ پہلی رکعت کے پہلے سجدے سے جب ساری جماعت کھڑی ہو گئی تو وہ نومسلم خاتون سجدے سے نہ اُٹھی، یہاں تک کہ جماعت ختم ہو گئی مگر وہ بدستور حالتِ سجدہ میں تھیں۔ اُس کی دوست کہتی ہے “میں نے اُس کے سجدے میں خلل ڈالنا مناسب نہ سمجھا اور نماز کے بعد کافی دیر اُس کی منتظر رہی۔ بالآخر اس نے سجدے سے سر آٹھایا تو آنکھیں آنسوؤں سے تر تھیں۔” میں نے اُسے تنہا چھوڑنا مناسب سمجھا اور خود ایک طرف جا بیٹھی۔ کافی دیر بعد وہ خود اٹھ کر میرے پاس آئی اور سامنے بیٹھ گئی، اور خود ہی گویا ہوئی، کہ “دراصل یہ میری زندگی کا پہلا سجدہ تھا۔ جونہی میری پیشانی زمین پر لگی۔ میری زبان سے بے اختیار نکلا “اے اللہ! میں تیری بندی ہوں، تیرے پاس آئی ہوں، مجھے معاف کر دے کہ میں اب تک تجھے بھولی رہی” اور ساتھ ہی کہنے لگی “یکدم مجھے محسوس ہونے لگا کہ میرا پورا وجود آغوشِ رحمت کی لپیٹ میں آ گیا ہے۔ دل میں ایک مٹھاس اور ایسا سکون میرے رگ و پے میں اترنے لگا جو ناقابل بیان ہے۔ مجھے محسوس ہونے لگا گویا میں بہت ہلکی پھلکی ہو رہی ہوں اور میرے تمام ذہنی تفکرات کو دھویا جا رہا ہے میرا بوجھل دل ہلکا ہو رہا تھا۔ مجھے ایسی اپنائیت کا احساس ہو رہا تھا جیسے کوئی انتہائی محبت کیساتھ میری طرف متوجہ ہے

اور بن کہے مجھے سنے جا رہا ہے۔ اور میری زبان سے بس یہی نکل سکا “اے الله! میری مدد فرما، مجھے اب نہ چھوڑنا، میری رہنمائی فرما”۔ اُس خاتون کا کہنا تھا کہ اس سے قبل زندگی میں بے شمار مواقع پر عبادت کی ہے، چرچ میں جا کر دُعائیں مانگی ہیں۔ اس سے قبل بھی اکثر و بیشتر خدا سے مخاطب رہی ہوں مگر تب تصورِ خدا مجسم انسانی تھا۔ لیکن آج ہرشبیہ سے پاک ذہن کیساتھ میں اپنے رب سے مخاطب ہوئی ہوں۔ کہنے لگی اس سے قبل میں نے خدا کو عقلی و نظری طور پر تسلیم کیا تھا مگر آج میں نے اسے اپنے اندر احساس کی سطح پر پالیا ہے۔ جس نے میرے ایمان و یقین کو کئی درجہ بڑھا دیا ہےاور اب میرے لئے ایک اور واحد اللہ ناقابل انکار حقیقت ہے” اللہ ہر دل میں ایمان کے نور کی روشنی عطا فرمائے۔۔آمین<

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!