بچپن میں زیادہ شور مچانے والے بچوں کو زندگی میں کس مشکل کا سامنا رہتا ہے؟

کائنات نیوز! بچوں کا شرارتی ہونا دوسروں کے لیے تو بلائے جان ہوتا ہے لیکن اب سائنسدانوں نے خود بچوں کے لیے اس کا ایک سنگین نقصان بتا دیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق یونیورسٹی آف مشی گن کے سائنسدانوں نے 1ہزار سے زائد لوگوں پر کی گئی تحقیق کے نتائج میں بتایا ہے کہ شرارتی بچے جو زیادہ شور مچاتے اور زیادہ غصے و چڑچڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہیں

انہیں درمیانی عمر میں پہنچ کر مالی مشکلات درپیش آنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ اس تحقیق میں سائنسدانوں’انسانوں کی عمر 2 گنا ہوجائے گی، 200 برس کی عمر میں بھی لوگ فٹ بال کھیلیں گے‘ بڑی پیشنگوئی سامنے آگئینے 1972ءاور 1973ءکے دوران پیدا ہونے والے ایک ہزار مردوخواتین کی زندگیوں کو سروے، انٹرویوز وغیرہ کے ذریعے ٹریک کیا۔ 45سال کی عمر تک ان کی زندگی کو ٹریک کرنے کے بعد سائنسدانوں نے نتائج مرتب کیے، جن میں معلوم ہوا کہ بچپن میں جن بچوں کو خود پر زیادہ اختیار نہیں ہوتا وہ آگے چل کر مالی معاملات کو بہتر طریقے سے منظم نہیں کر سکتے اور مالی مشکلات کا شکاررہتے ہیں۔ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر لی ریکمنڈ ریکرڈ کا کہنا تھا کہ ہماری تحقیق کے نتائج میںاس بات کے بھی واضح شواہد سامنے آئے کہ جن بچوں کو بچپن میں خود پر زیادہ کنٹرول تھا وہ ادھیڑ عمری میں جا کر دوسروں کی نسبت زیادہ کم عمر بھی دکھائی دیتے تھے اور ان کی صحت بھی ان سے بہتر تھی۔ہم نے 45سال کی عمر تک ان لوگوں کی زندگیوں کا قریب سے مشاہدہ کیا اور ان کی جسمانی و ذہنی استعداد کار کا بھی جائزہ لیتے رہے جس میں معلوم ہوا کہ بچپن میں خود پر زیادہ کنٹرول رکھنے والے بچے 45سال کی عمر تک پہنچ کر دوسروں کی نسبت ہر حوالے سے زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے تھے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!