پاکستان جاکریہ کام کرنےکی خواہش ہے،15سالہ بھارتی

15سالہ بھارتی

کائنات نیوز! بھارت کے جنوبی شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی 15 سالہ غزل گلوکارہ جیوتی شرما کی زندگی کا سب سے بڑا خواب پاکستان جا کر وہاں پرفارم کرنا ہے۔وہ شہنشاہ غزل مہدی حسن کو اپنا استاد اور رول ماڈل مانتی ہیں اور ان کے لیے یہ بڑی بات ہے کہ پاکستان میں لوگوں کو ان کی گائیکی پسند ہے۔جیوتی شرما نے حیدرآباد کے پرانے شہر میں واقع اپنے دادا پنڈت شری رتن لال شرما کے فلیٹ پربرطانوی خبررساں ادارےسے گفتگو میں کہا:

‘میںخوش قسمت ہوں کہ میری آواز پاکستانی عوام تک پہنچ رہی ہے۔ وہ مجھے سنتے ہیں اور مجھے سراہتے ہیں، یہ میرے لیے بہت بڑی بات ہے۔ میرے پاکستانی مداحوں میں سے ایک حبیب سومرو صاحب ہیں، وہ مجھے اپنی بیٹی مانتے ہیں۔’سوشل میڈیا پر میرے پاپا میری گائی ہوئی غزلیں ڈالتے رہتے ہیں۔ پاپا کو فیس بک پر پاکستان سے دوستی کی بہت ساری درخواستیں موصول ہوتی ہیں۔ پاکستان میں لوگ میری غزلوں کو سن کر مجھے دعا دیتے ہیں۔ اس سے نہ صرفمیری ہمت بڑھتی ہے بلکہ میری حوصلہ افزائی بھی ہوتی ہے۔’جیوتی شرما پاکستان کی سرزمین پر پرفارم کرنے کے خواب کے بارے میں کہتی ہیں: ‘اگر مجھے پاکستان سے کوئی مدعو کرتا ہے تو یہ میرے لیے ایک بہت بڑا موقع ہوگا۔ وہاں جا کر پرفارم کرنا تو میرا بہت بڑا خواب ہے۔’انہوں نے مزید کہا: ‘میرے مداح پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ پاکستان، عمان اور ملائیشیا میں میری غزل گائیکی کو زیادہ پسند کیا جاتا ہے، لیکن جب پاکستانی مداح سراہتے ہیں تو بہت خوش ہو جاتی ہوں۔’جیوتی شہنشاہ غزل مہدی حسن کو اپنا استاد مانتی ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں غلام علی اور حسین بخش کی غزل گائیکی بھی بہت پسند ہے۔انہوں نے بتایا:’میں مہدی حسن صاحب کو اپنا استاد مانتی ہوں۔ وہ میرے رول ماڈل بھی ہیں۔ ان کی گائیکی مجھے بہت پسند ہے۔ ان کی ہر ایک غزل ایک بڑے خیال کی طرح ہوتی ہے۔’جیوتی سمھتی ہیں کہ غزل گائیکی بھارت اور پاکستان کو جوڑنے کا کام کر سکتی ہے۔ ‘بھارتی اور پاکستانی فنکاروں میں کوئی بھید بھاؤ نہیں ہے۔ گائیکی سے جڑے لوگ تو ایک جیسے ہیں۔

میرا ماننا ہے کہ غزل گائیکی دونوں ملکوں کو جوڑنے کا کام کر سکتی ہے۔’بقول جیوتی: ‘پاکستان اور بھارت میں کئی ایسی خواتین گلوکارائیں ہیں جو مجھے بہت پسند ہیں۔ پاکستان میں فرح انور اور عابدہ پروین کی گائیگی مجھے بہت اچھی لگتی ہے۔ بھارت میں آشا بھوسلے،مدھو رانی اور بیگم اختر کی گائیکی مجھے بے حد پسند ہے۔’جیوتی شرما نے غزل گائیکی کی تربیت اپنے دادا پنڈت شری رتن لال شرما، جو خود ایک ہارمونیم پلیئر ہیں، سے حاصل کی ہے۔انہوں نے بتایا: ‘گھر میں موسیقی کا ماحول تھا۔ جب بچپن سے ہی غزلیں سننے کو ملیں تو میرا اس طرف رجحان بڑھ گیا۔ میں نے دس سال کی عمر میں غزلیں گانا شروع کیں۔ میں آج بھی اپنے دادا جی سے سیکھ رہی ہوں۔ میں ان کے بارے میں جتنا بھی بتاؤں گی وہ کم ہوگا۔ لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔ وہ کبھی ڈانٹتے نہیں ہیں۔ میرے دادا اتنے پیار سے سکھاتے ہیں کہ کوئی بھی شاگرد بڑی آسانی سے سیکھ سکتا ہے۔’جیوتی اب تک ملائیشیا اوربھارت کے مختلف شہروں اور رئیلٹی ٹی وی شوز میں پرفارم کر کے متعدد ایوارڈ حاصل کر چکی ہیں۔غزل گائیکی میں ان کی مدد ان کے دادا کے علاوہ والد گووند شرما بھی کر رہے ہیں۔ وہ ان کے لیے سوشل میڈیا پر پروموشن کا بھی کام کر رہے ہیں۔دوسری جانب جیوتی آج کل گائیکی کا ریاض جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ ہارمونیم بجانا بھی سیکھ رہی ہیں۔انہوں نے بتایا: ‘مجھے دادا جی اور پاپا نے بتایا کہ بیٹا غزل گائیکی کے لیے ہارمونیم سیکھنا ضروری ہے۔ جتنے بھی لیجنڈری غزل گلوکار ہیں وہ ہارمونیم کے ساتھ ہی گاتے ہیں۔ میرے دادا تو ہارمونیم کے کھلاڑی ہیں۔

دونوں دادا جی اور پاپا نے مجھے ہارمونیم سکھایا، لیکن اسمیں بہتری کی ابھی بہت گنجائش ہے۔’جیوتی اگرچہ اچھی اردو بولتی ہیں لیکن اس زبان میں لکھنا اور پڑھنا نہیں جانتیں۔ ‘میں اردو سیکھنا چاہتی ہوں کیونکہ ایک غزل گلوکار کے لیے اردو سیکھنا ضروری ہوتا ہے۔ ایک غزل گلوکار کو لفظوں کے معنی کی سمجھ ہونی چاہیے۔’15 سالہ جیوتی کو کشمیری اور پنجابی زبانیں بھی اچھی لگتی ہیں اور وہ ان میں بھی کبھی کبھی گاتی ہیں۔انہوں نے بتایا: ‘مجھے کشمیری زبان بہت اچھی لگتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں کشمیری صوفی گیت بھی گاتی ہوں۔ میں اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتی ہوں کہ کشمیری گیت بھی گا پاتی ہوں۔ مگر یہ بھی سچ ہے کہ مجھے مطلب سمجھ میں نہیں آتا ہے۔ اس کےعلاوہ وہ مجھے پنجابی زبان بھی بہت پسند ہے۔’دوسری جانب جیوتی شرما کے دادا پنڈت شری رتن لال شرما نے بتایا کہ پاکستان میں کچھ لوگوں نے ان کی پوتی سے کہا ہے کہ جوں ہی کرونا وائرس کا خطرہ ٹلتا ہے انہیں وہاں بلا لیا جائے گا۔’وہاں کے لوگوں نے جیوتی بیٹی سے کہا کہ کرونا کا خطرہ ٹلنے کے ساتھ ہی ہم آپ کو پاکستان بلا لیں گے۔ وہاں کے ایک حبیب صاحب نے جیوتی کو اپنی بیٹی کا درجہ دیا ہے۔ موسیقی کی کوئی سرحد نہیں ہوتی ہے۔’رتن لال شرما نے جیوتی کی موسیقی میں دلچسپی پر کہا: ‘جیوتی جب بہت چھوٹی تھی تو ہارمونیم کے پاس آ کر بیٹھ جاتی تھی۔ میں ہارمونیم بجانے میں مصروف رہتا تھا اور یہ گردن ہلانےمیں۔ جب میں نے اس سے پوچھا کہ بیٹا تمہیں موسیقی پسند ہے تو بولی ہاں دادا جی میں سیکھنا چاہتی ہوں۔”پھر میں نے اس کو ابتدائی طور پر کلاسیکی موسیقی سکھائی۔

پھر جب میں غلام علی صاحب یا مہدی حسن صاحب کی غزلیں ہارمونیم پر بجاتا تھا تو اس کو وہ بہت پسند آنے لگیں۔ میں نے اس سے غزلوں کے اشعار لکھوانے شروع کر دیے۔ اس نے ہر جگہ میرا نام روشن کیا ہے۔ ہر جگہ کہتی ہیں کہ میں اپنے دادا جی سے سیکھتی ہوں۔’بقول پنڈت شری رتن لال شرما: ‘میں نے اس کو اتنی غزلیں یاد کروائی ہیں کہ دو گھنٹوں تک غلام علی صاحب کی غزلیں گا سکتی ہیں۔’پنڈت شری رتن لال شرما مشہور چند سال قبل پاکستانی گلوکارغلام علی کی حیدرآباد کے رویندر بھارتی تھیٹر میں منعقدہ تقریب میں ہارمونیم پلیئر کا کردار ادا کر چکے ہیں۔انہوں نے بتایا: ‘جب میں نے یہاں غلام علی صاحب کی تقریب میں ہارمونیم بجایا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ ہمیں آپ کو کتنے پیسے ادا کرنے ہوں گے۔ میں نے ان سے کہا کہ میں آپ کے ساتھ بیٹھ جاؤں، میرے لیے اتنا ہی کافی ہے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!