حضور اکرم ؐ نے کن لوگوں کے ہاتھ کٹوانے اور آنکھوں میں گرم سلاخیں پھروانے کا حکم دیا تھا

کائنات نیوز! انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ کچھ لوگ عکل یا عرینہ (قبیلوں) کے مدینہ میں آئے اور بیمار ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لقاح میں جانے کا حکم دیا اور فرمایا کہ وہاں اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پئیں۔چنانچہ وہ لقاح چلے گئےاور جب اچھے ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر کے وہ جانوروں کو ہانک کر لے گئے۔ علی الصبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (اس واقعہ کی) خبر آئی۔

تو آپ نے ان کے پیچھے آدمی دوڑائے۔دنچڑھے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پکڑ کر لائے گئے۔ آپ کے حکم کے مطابق ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے گئے اور آنکھوں میں گرم سلاخیں پھیر دی گئیں اور (مدینہ کی) پتھریلی زمین میں ڈال دئیے گئے۔(پیاس کی شدت سے) وہ پانی مانگتے تھےمگر انہیں پانی نہیں دیا جاتا تھا۔ ابوقلابہ نے (ان کے جرم کی سنگینی ظاہر کرتے ہوئے) کہا کہ ان لوگوں نے چوری کی اور چرواہوں کو قتل کیا اور (آخر) ایمان سے پھر گئے اور اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کی۔حوالہ: صحیح بخاری (جلد اول) صفحہ 185-186حدیث ایک شرابی کے ہاں ہر وقت شراب کا زور رہتا تھا. ایک دفعہ اس کے دوست احباب جمع تھے شراب تیار تھی اس نے اپنے غلام کو کم و بیش چار درہم دیے کہ شراب پینے سے پہلے دوستوں کو کھلانے کے لیے کچھ پھل خرید کر لائے. وہ غلام بازار جا رہا تھاتبھی راستے میں حضرت منصور بن عمار بصری رحمتہ اللہ علیہ کی ایک مجلس پرگزر ہوا وہ کسی فقیر کے واسطے لوگوں سے کچھ مانگ رہے تھے ، وہ یہ فرما رہے تھے کہ”جوشخص اس فقیر کو چار درہم دے میں اس کو ابھی چار دعائیں دوں گا لہذا اس غلام نے وہ چاروں درہم اس فقیر کو دے دیے.حضرت منصور رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا, بتا تو کیا دعائیں چاہتا ہے…؟ غلام نے کہا میرا ایک آقا ہے میں اس سے خلاصی چاہتا ہوں. حضرت منصور رحمتہ اللہ علیہ نے اس کے لیے دعا فرمائی اور پوچھا دوسری دعا کیا چاہتا ہے…؟ غلام نے کہا مجھے ان درہموں کا بدل مل جائے.حضرت منصور رحمتہ اللہ علیہ نے اس کےت ساتھ ہی اس کی بھی دعا کی پھر پوچھا تیسری دعا کیا ہے…؟ غلام نے کہا حق تعالٰی شانہ میرے سردار کو توبہ کی توفیق دے اور اس کی دعا قبول کرے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے اس کے بعد اس کی بھی دعا کی پھر پوچھا چوتھی دعا کیا ہے…؟غلام نے کہا حق تعالٰی شانہ میری, میرے سردار کی, تمہاری اور یہاں مجلس میں موجود ہر شخص کی مغفرت کرے.

حضرت منصور رحمتہ اللہ علیہ نے اس کی یہ والی بھی دعا کی اس کے بعد وہ غلام خالی ہاتھ اپنے سردار کے پاس واپس چلا گیا.سردار اسی کے انتظار میں تھا. دیکھ کر بولنے لگا ” اتنی دیر لگا دی…؟ غلام نے قصہ سنایا. سردار نے ان دعاؤں کی برکت سے اس سے بجائے غصہ ہونے اور مارنے کے یہ پوچھا کہ کیا کیا دعائیں کرائیں…؟غلام نے کہا پہلی تو یہ کہ میں غلامی سے آزاد ہو جاؤںسردار نے کہا میں نے تجھے آزاد کر دیا, دوسری کیا تھی…؟ غلام نے کہا مجھے ان درہموں کا بدلہ مل جائے….. سردار نے کہا میری طرف سے تم کو چار ہزار درہم نذر ہیں, تیسری کیا تھی….؟غلام نے کہا حق تعالٰی شانہ تمہیں شراب وغیرہ فسق و فجور سے توبہ کی توفیق دے…. سردار نے ان سے پھر یہ کہا میں نے اپنے سب گناہوں سے توبہ کر لی, چوتھی کیا تھی….؟۔غلام نے کہا حق تعالٰی شانہ میری, آپ کی, ان بزرگ کی اور سارے مجمع کی مغفرت فرما دے…. سردار نے کہا کہ یہ تو میرے اختیار میں نہیں ہے…. رات کو اس سردار کو خواب میں ایک آواز سنائی دی… جب تو نے وہ تینوں کام کر دیے جو تیرے اختیار میں تھے تو کیا تیرا یہ خیال ہے کہ اللہ پاک وہ کام نہیں کرے گا جس پر وہ قادر ہے….؟ اللہ نے تیری, اس غلام کی, منصور کی, اور اس سارے مجمعے کی مغفرت کر دی ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!