حضورﷺاپنا سارادن کیسے گزارتے تھے؟آپﷺ ؐکی 24گھنٹےکی سنتیں جانیں اورزندگی کو پُرسکون بنائیں

کائنات نیوز! اس تحریر کا موضوع ہے آقا ﷺ کے صبح اٹھنے سے لے کر رات کو سونے تک کے تمام معمولات کہ آقاﷺ اپنا دن کیسے گزارتے تھے اس عنوان کے تحت نہ تو آپﷺ کی عبادات کے مکمل احوال بیان کیئے جاسکتے ہیں اور نہ روز مرہ کے اذکار ذکر کئے جاسکتے ہیں کیونکہ اگر ایسا کیا گیا تو تحریر بہت زیادہ لمبی کتاب کی صورت اختیار کر لے گی

۔اس تحریر میں صرف آپﷺ کے روزانہ کے معمولات کا ایک سرسری ساخاکہ سامنے رکھنا مقصود ہے کہ آپﷺ کونسا کام کس وقت اور کتنے دورانئے میں کیا کرتے تھے جس کے سلسلے میں آپ ﷺ کے اقوال و افعال کو پیش نظر رکھا گیا ہے ۔نبی ﷺ نے سیدان داؤدؑ کے قیام کو اللہ کے ہاں پسندیدہ قرار دیا اورحدیث میں وضاحت ہے۔کہ وہ رات کا ایک تہائی قیام کرتے تھے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب رات کی آخری تہائی ہوتی ہے تو اللہ آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے سیدنا مسروق ؒ کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے پوچھا کہ آپﷺ کب (قیام اللیل کے لئے )اٹھتے تھے وہ فرمانے لگیں آپﷺ اس وقت بیدار ہوتے تھے جب مرغ کی آواز سن لیتے تھے یعنی تہائی رات کے وقت۔

اگر ہم پاکستان اور بھات کی گرمیوں اور سردیوں کی راتوں کو تین حصوں میں تقسیم کریں تو رات کی آخری تہائی سردیوں میں تقریبا تین بجے اور گرمیوں میں تقریبا دو بجے شروع ہوجاتی ہے ہم کہہ سکتے ہیں کہ آپﷺ ہمارے ہاں کے حساب کے مطابق سردیوں میں 3 بجے کے قریب اور گرمیوں میں 2 بجے کے قریب بیدارہوجایا کرتے تھے ۔جب حضور ﷺ اٹھتے تووضو کاپانی اور مسواک آپﷺ کے سرہانے کے پاس موجود ہوتے تھے۔تہجد سے پہلے آپﷺ مسواک کرلیا کرتے تھے آپﷺ کا فرمان ہے جب آدمی رات یادن کو بیدار ہوتا ہے ،وہ وضو کرتا ہے اور اچھے انداز سے کرتا ہے اور مسواک کرتا ہے تو فرشتہ اسےگھیر لیتا ہے اور اس کے قریب ہوجاتا ہے حتی کہ اپنا منہ اس کے منہ پر رکھ لیتا ہے۔

نماز تہجد کی رکعت کم از کم اور چار اور زیادہ سے زیادہ آٹھ البتہ بعض روایتوں میں بارہ رکعتیں بھی وارد ہوئی ہیں اس لئے بارہ تک گنجائش ہے حضور ﷺ کا عام معمول کم از کم چار اور زیادہ سے زیادہ آٹھ رکعت پڑھنے کا تھا نماز تہجد کے بعد نبی ﷺ تہجد کے بعد آذان فجر سے پہلے آرام فرماتے تھے۔اس کی ایک دلیل تو سیدہ عائشہ ؓ کی روایت ہے کہتی ہیں میرے ہاں جب بھی آپﷺ کی سحری کا وقت ہوتا تو آپ آرام فرمارہے ہوتے ۔اسی طرح سیدنا ابن عباس ؓ آپ کے معمول کے متعلق بتاتے ہیں آپ ﷺ نے تہجد کی نماز پڑھی اور آرام کیا،پھر

مؤذن آپﷺ کے پاس آیا تو آپ اُٹھے اور نماز پڑھائی اور آپ نے وضو نہ کیا۔یہ وہ وقت تھا جس میں آپﷺ کے پاس کوئی نہیں آتا تھا۔سیدنا ابن عباس ؓ کی وضاحت بتارہی ہے کہ اذان فجر سے قبل آپﷺ کچھ آرام فرماتے تھے لیکن اس میں سوتے نہیں تھے اور نہ ہی آپ کی آنکھ لگتی تھی ۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!