رہنے کے لیے گھر نہیں ہے کیونکہ 24 سال سے یہ شخص آٹو رکشہ میں کیوں رہ رہا ہے؟

کائنات نیوز! کہتے ہیں جن لوگوں کی زندگیاں تکلیف اور مشکلات سے بھری ہوتی ہیں، وقت کے ساتھ ساتھ وہ لوگ اندر سے مضبوط ہوجاتے ہیں۔ دنیا کے ہر ممالک میں ایسے ضرورت مند لوگ موجود ہیں جن کے پاس رہنے کے لیے گھر نہیں بلکہ وہ کسی درخت یا ٹوٹی چھت کے سائے کی تلاش میں رہتے ہیں۔غریب لوگ بڑے خواب نہیں دیکھتے اور بس ان کی خواہش ہوتی ہے کہ

وہ چند پیسے کما کر اپنے گھر والوں کا پیٹ پال سکیں۔آج ایک ایسے بوڑے شخص کی کہانی بیان کرنے جارہے ہیںجو 24 سال سے آٹو رکشہ میں رہ رہا ہے تاکہ وہ اپنی بچیوں کو پیسہ بچا کر اچھی تعلیم حاصل کر واسکیں۔74 سالہ دیش راج سنگھ ہماچل پردیش کے ضلع کانگڑا کے ساگور کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے تعلق رکھتے ہیں ، جو اپنے خوابوں کو پورا کرنے کے لئے ممبئی آئے تھے مگر حالات اور غربت نے انہیں آگے نہ بڑھنے دیا۔ وہ گزشتہ 35 برسوں سے ممبئی میں بحیثیت آٹو ڈرائیور کام کر رہے ہیں۔ دیش راج سنگھ نے 24 سالوں سے آٹو رکشا کو اپنا گھر بنا رکھا ہے۔دیش راج سنگھ اپنےحوالے سے مزید بتاتے ہیں کہ مکان میں رہنے کے لئے ہر ماہ کرایہ کے لئے 2000 سے 3000 روپے ادا کرنا پڑے گا تو اس لئے وہ آٹو میں ہی اپنا مکان بنا کر رہتے ہیں۔ تاکہ چند پیسوں سے اپنی بچیوں اور کو بہتر تعلیم و تربیت فراہم کرسکیں۔دیش راج سنگھ نے بتایا کہ ان کے 4 بچے ہیں جن میں 3 لڑکے اور ایک لڑکی شامل ہے۔ ان کے بڑے بیٹے کا انتقال سال 2016 میں ہوگیا تھا اور دو سال بعد انہوں نے اپنا دوسرا بیٹا بھی کھو دیا ۔ دیش راج کے پاس غم کرنے کا بھی وقت نہیں تھا ۔ کیونکہ ان کو اپنے اہلخانہ کی پرورش تنہا ہی کرنی تھی۔ضعیف شخص کا چھوٹا بیٹا سیکورٹی گارڈ کی نوکری کرتا تھا لیکن کورونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن لگنے سے وہ اپنینوکری سے ہاتھ دھو بیٹھا۔دیش راج کہا کہنا تھا کہ اپنے اور گھر والوں کے خراب حالات کی وجہ سے مایوس ہوجاتا ہوں لیکن اپنا کام کرنا نہیں چھوڑتا تاکہ اس کے گھر والوں کو یہ محسوس نہ ہو کہ ان کا کوئی نہیں

۔مذکورہ شخص کا مزید کہنا تھا کہ ان کی پوتی دسویں جماعت کی طالبہ ہے اور آگے مزید تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہے، میں چاہتا ہوں کہ وہ بی ایڈ کرے، جب اس کا بی ایڈ مکمل ہوگا ، تب وہ ٹیچر بن جائے گی اور اپنے پیروں پر کھڑی ہو جائے گی۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!