وہ کونسا سال تھا جس میں رمضان المبارک کے 42 روزے رکھے گئے تھے؟

کائنات نیوز! یکم جنوری 1935 سے یکم رمضان شروع ہوا اور 30 دن کا رمضان ہوا، پھر اسی سال دسمبر 1935 کو پھر سے رمضان شروع ہو گیا … اس طرح ایک عیسوی سال میں 42 روزے رکھے گئےیکم جنوری انیس سو پینتیس پہلا روزہ اور اس کے بعد اسی سال بیس دسمبر انیس سو پینتیس کو پہر رمضان آگیاجس وجہ سے اُس سال بیالیس روزے رکھے گئے۔

حضرت ابراہیم علیہ سلام نے خانہ کعبہ کی تعمیر کیسے کی؟ جب حضرت ابراہیم علیہ سلام کو اللہ تعالی کا حکم ہوا کہ خانہ کعبہ کی تعمیر کریں۔ تو حضرت ابراہیم علیہ سلام نے اللہ تعالی کے حکم سے خانہ کعبہ کی تعمیر شروع کر دی. تعمیر کرتے کرتے جب خانہ کعبہ کی دیواریں حضرت ابراہیم علیہ سلام کے سر سے اونچی ہوگئی اور آپ کے لیے مزید پتھر لگانا مشکل ہو گیا. تو اس وقت حضرت ابراہیم علیہ کے لیے ایک معجزے کا نزول ہوا. جو کہ ایک پتھر کی شکل میں تھا۔ جس کو مقام ابراہیم کہا جاتا ہے. یہ ایک مقدس پتھر ہے جو کعبہ معظمہ سے گز کی دوری پر رکھا ہوا ہے. یہ وہی پتھر ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ سلام کعبہ مکرمہ کی تعمیر فرما رہے تھے۔ اور جب دیواریں سر سے اونچی ہوگئی تو اس پتھر پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم علیہ سلام نے کعبہ معظمت کی دیواروں کو مکمل فرمایا. یہ آپ علیہ السلام کا ایک معجزہ تھا۔

یہ پتھر موم کی طرح نرم ہو گیا. اور آپ علیہ السلام کے دونوں مقدس قدموں کا اس پتھر پر گہرا نشان پڑ گیا. اس پتھر کا یہ بھی معجزہ ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ سلام اس پر کھڑے ہو جاتے تو یہ پتھر خود بخود ہوا میں لگتا. اور خانہ کعبہ کی دیواروں کی طرف ہو جاتا. اس طرح حضرت ابراہیم علیہ سلام آسانی کے ساتھ مزید پتھر لگاتے جاتے اور خانہ کعبہ کی تعمیر فرماتے جاتے. آپ علیہ السلام کے قدموں کے مبارک نشان کی بدولت اس پتھر کی فضیلت اور عظمت میں اس طرح چار چاند لگ گئے کہ اللہ تعالی نے اپنی کتاب قرآن مجید میں دو جگہ اس کا خطبہ ارشاد فرمایا. جس کا ترجمہ ہے.

یعنی کعبہ مکرمہ میں خدا کی بہت سی روشن اور کھلی ہوئی نشانیاں ہیں اور ان نشانیوں میں سے ایک بڑی نشانی مقام ابراہیم ہے۔ اور دوسری جگہ اس پتھر کی عظمت کا اعلان کرتے ہوئے یہ فرمایا کہ اور ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کا مقام بناؤ. چار ہزار بس کے طویل زمانے سے اس بابرکت پتھر پر حضرت ابراہیم علیہ سلام کے مبارک قدموں کے نشان موجود ہیں. اس طویل مدت سے یہ پتھر کھلے آسمان کے نیچے زمین پر رکھا ہوا ہے. اس پر چار ہزار برساتی گزر گئیں.

ہزاروں آندھیوں کے جھونکے اس سے ٹکرائے. بارہا حرم کعبہ میں پہاڑی نالوں سے برسات میں اور یہ مقدس پتھر سیلاب کے تیز دھاروں میں ڈوبا رہا. کروڑوں انسانوں نے اس پر ہاتھ پھیرا مگر اس کے باوجود آج تک حضرت ابراہیم علیہ سلام کے جلیل القدر قدموں کے نشان اس پتھر پر ہیں۔ جو بلاشبہ حضرت ابراہیم علیہ سلام کا ایک بہت ہی بڑا اور نہایت ہی معظم معجزہ ہے. اور یقینا یہ پتھر اللہ کی آیات اور کھلی ہوئی نشانیوں میں سے ایک بہت بڑا نشان ہے. اور اس کی شان کا یہ عظیم الشان نشان ہر مسلمان کے لیے بہت بڑی عبرت کا سامان ہے کہ اللہ تعالی نے تمام مسلمانوں کو حکم دیا کہ تم لوگ میرے مقدس گھر خانہ کعبہ کے طواف کے بعد اس پتھر کے پاس دو رکعت نماز ادا کرو تم لوگ نماز تو میرے لیے پڑھو اور سجدہ میرا ادا کرو۔ لیکن مجھے یہ محبوب ہے کہ سجدوں کے وقت تمہاری پیشانیاں اس مقدس پتھر کے پاس زمین پر لگیں. کہ جس پتھر پر میرے خلیل حضرت ابراہیم علیہ سلام کے قدموں کا نشان بنا ہوا ہے.

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!