کیا سب کے سامنے تم اپنے کپڑے اتار سکتی ہو،سبق آموز تحریر

کائنات نیوز! اس نے سگریٹ کا ایک کش لگایا اور اپنی محبوبہ کی تصویر بٹوے سے نکال کر دوستوں کو دکھانے لگا اور بولا ۔۔۔!!چیک کر یار کیا کمال کا پیس ہے ۔۔! ہونٹ چیک کر یا ر کیسے ہیں ۔ بس ترے بھائی پر مرتی ہے ۔۔! ایک دوست بولا شادی کا ارادہ ہے ؟تو وہ قہقہہ لگا کر بولا ابے نہیں یار ، یہ صرف ٹائم پاس ہے ۔ بس تھوڑا انجوائے کروں گا۔ مستی کروں گا اور پھر چھوڑ دوں گا ۔ میں گراؤنڈ میں پاس ہی بیٹھا ان کی باتیں سن رہا تھا ۔

فوراً اٹھا اور ان کے پاس چلا گیا اور اس لڑکے سے بولا۔ ۔، کیا تم یہاں سب کے سامنے اپنے کپڑے اتار سکتے ہو ؟ تو ایک دم غصے میں بولا کہ جناب آپ کا دماغ خراب ہے کیا ؟میں پاگل ہوں جو سب کے سامنے بے لباس ہو جاؤں۔ تو میں بولا کہ تم ایک لڑکی کو سب کے سامنے بے لباس کر رہے ہو ۔ اس کا صرف یہ قصور ہے کہ وہ تم سے محبت کر بیٹھی ہے یہ ٹھیک ہے کہ اس کی بھی غلطی ہے لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ تم اس کی عزت یوں سرعام دوستوں میں بیٹھ کر لوٹتے رہو۔ میں یہ کہہ کر وہاں سے پلٹ آیا اور گھر آتے ہوئے سوچتا رہا کہ ہم مرد کتنے عجیب ہوتے ہیں ۔۔ ۔عورت کی عزت اپنی نظر سے ہی لوٹ لیتے ہیں اور پھر بھی عورت کو قصور وار ٹھہراتے ہیں ، جس مرد کیلئے محبت صرف لباس اتارنے کا نام ہو تو

اس کی نظر میں اس کی محبوبہ اور طوائف میں کوئی فرق نہیں اور ایسے مرد کبھی اچھے شوہر نہیں بن سکتے ….! آپ بھی ذرا غور کیجئے گا۔میں شادی کی مخفلوں میں شریک ہونے کی بڑی شوقین تھی جبکہ میرا شوہر بڑا دیندار تھا،وہ ہمیشہ مجھے اختلاط سےبچنے کی تائید کرتاتھا۔ایک روز میں شادی کی محفل میں گئی محفل میں شریک عورتیں رقص کررہی تھیں۔مجھے بھی جوش آیا میں بھی اپنا برقع اتار کر ناچ گانے میں شریک ہوگئی۔ایک روز میرے شوہر نے کسی خلیجی ملک کاسفر کیا ،وہاں کسی دفتر میں نوجوانوں کے مابین اختلاف ہوگیا کہ خلیجی ممالک میں سب سے خوبصورے لڑکی کون سی ہے؟ایک نوجوان فوراَ اٹھا ایک ویڈیو کیسٹ لاکر حاضرکردی جسے اس نے میرے ملک کے کسی آدمی سے چوری چھپے بھاری قیمت دے کر خریدا تھا۔

اس کیسٹ میں شادی کی اس محفل کی ویڈیو تھی جس میں میں نے بھی شرکت کی تھی ۔ جب نوجوان نے کیسٹ لگائی تو وہ منظر دیکھ کر میرے شوہر کے پاؤں سے زمین کھسک گئی جس میں میں رقص کرہی تھی۔میرا شوہر اندر ہی اندر آگ بگولا ہورہاتھا،اس کی آتش غیظ و غضب تیز سے تیز تر ہورہی تھی۔وہ فوراَ سفر کے دیگر کاموں کو ملتوی کرکے واپس اپنے وطن آگیا۔گھر پہنچ تو میرے اور اس کے درمیان کسی عورت کےلئےسب سے تکلیف دہ ہوتا ہے۔اب میں مطلقہ ہوں میری زندگی عذاب سے گزر رہی ہے۔شقاوت وبدبختی نے مجھے رسوائی و بدنامی سے دوچار کردیا اب میں اکیلے زندگی کے کٹھن منازل طے کررہی ہوں۔ میرے مسلمان بہن بھائیو!آج ہمارے ہاں بھی اس طرح کا رواج ہے۔اگر کسی کے گھر شادی ہوتی ہے تو

نوجوان لڑکیاں گانے گاتی ہیں اور ڈانس کرتی ہیں(پھر ویڈیو بھی بنتی ہے،کئی لوگ موبائلوں سے ویڈیو بنا کر پھر انٹرنیٹ پر چڑھادیتے ہیں جس سے ویڈیو ساری دنیا میں پہنچ جاتی ہے)۔ ایسی بہنوں کو اللہ تعالی سے توبہ کرنی چاہیے اللہ ہمیں بھی برے کاموں اور شیطان کے شر سے محفوظ رکھے۔آمین۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!