ہر وہ خواہش جوپوری نہ ہوتی ہوایک بار یہ وظیفہ کرلیں انشاءاللہ پوری ہوجائیں گی،آزمودہ عمل

وظیفہ

کائنات نیوز! یہ وظیفہ آپ نے اپنی زندگی میں ایک مرتبہ ضرور کرنا ہے مختصر سا عمل ہے مختصر سا وظیفہ ہے ایک مرتبہ ضرور آزمائیے . اس وظیفہ سے بہت سارے لوگوں کو فائدہ ہوا ہے تو آپ بھی ایک مرتبہ ضرور اس وظیفہ کو آزما لیجئے .نہایت ہی مختصر ساوظیفہ ہے. وظیفہ یہ ہے کہ کسی بھی وقت کسی بھی نماز کے بعد یہ وظیفہ کرنا ہے .آپ نے اول آخر تین تین مرتبہ درود شریف پڑھ لینا .

باوضو حالت میں یہ وظیفہ کیجئے اور طہارت کا بھی خاص خیال رکھئے.اول آخر تین تین مرتبہ درود پڑھ لیجئے اور درمیان میں سورہ فاتحہ شریف 11 بار پڑھ لیجئے.ہر مرتبہ بسم اللہ کے ساتھ شروع کرنی ہے.اور بسم اللہ کو اس سورت کے ساتھ ملا کر پڑھنا ہے.حضرت ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ نے کہ میں نماز میں مشغول تھا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اس لئے میں کوئی جواب نہیں دے سکا، پھر میں نے (آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر) عرض کیا، یا رسول اللہ! میں نماز پڑھ رہا تھا. اس پر آنحضر ت نے فرمایا کیا اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم نہیں فرمایا ہے کہ اللہ کے رسول جب تمہیں پکاریں تو ان کی پکار پر فوراً اللہ کے رسول کے لئے لبیک کہا کرو.“ پھر آپ نے فرمایا مسجد سے نکلنے سے پہلے قرآن کی سب سے بڑی سورت میں تمہیں کیوں نہ سکھا

دوں. پھر آپ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا. اور جب ہم مسجد سے باہر نکلنے لگے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے ابھی فرمایا تھا کہ مسجد کے باہر نکلنے سے پہلے آپ مجھے قرآن کی سب سے بڑی سورت بتائیں گے. آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں وہ سورت الحمدللہ رب العالمین ہے یہی وہ سات آیا ت ہیں جو (ہر نماز میں) باربار پڑھی جاتی ہیں اور یہی وہ قرآن عظیم ہے جو مجھے دیا گیا ہے. حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم ایک فوجی سفر میں تھے (رات میں) ہم نے ایک قبیلہ کے نزدیک پڑاؤ کیا. پھر ایک لونڈی آئی اور کہا کہ قبیلہ کے سردار کو بچھو نے کاٹ لیا ہے اور ہمارے قبیلے کے مرد موجود نہیں ہیں،کیا تم میں کوئی بچھو کا جھاڑ پھونک کرنے والا ہے؟ ایک صحابی (خود ابوسعید) اس کے ساتھ کھڑے ہو گئے،

ہم کو معلوم تھا. کہ وہ جھاڑ پھونک نہیں جانتے لیکن انہوں نے قبیلہ کے سردار کو جھاڑا تو اسے صحت ہو گئی. اس نے اس کے شکر انے میں تیس بکریاں دینے کا حکم دیا اور ہمیں دودھ پلایا. جب وہ جھاڑ پھونک کر کے واپس آئے تو ہم نے ان سے پوچھا کیا تم واقعی کوئی منتر جانتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ نہیں میں نے تو صرف سورۃ الفاتحہ پڑھ کراس پر دم کر دیا تھا. ہم نے کہا کہ اچھا جب تک ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق نہ پوچھ لیں ان بکریوں کے بارے میں اپنی طرف سے کچھ نہ کہو. چنانچہ ہم نے مدینہ پہنچ کر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا کہ انہوں نے کیسے جانا کہ سورۃ الفاتحہ منتر بھی ہے. (جاؤ یہ مال حلال ہے) اسے تقسیم کر لو اور اس میں میرا بھی حصہ لگا نا. اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو .آمین

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!