درختوں کا سرکار دو عالم ﷺ کےارد گر د عشق میں جمع ہونا،جان کرآپ بھی عش عش کر اُٹھیں گے

سرکار دو عالم ﷺ

کائنات نیوز! حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ رفع حاجت کے لیے تشریف لے گئے تو کوئی ایسی جگہ نہ دیکھی کہ جہاں پر کوئی نہ تھا وادی کے کنارے پر دو درخت نظر آئے تو رسول اللہ ﷺ ان دونوں میں سے ایک کے پاس گئے اور ایک ٹہنی پکڑ کر فرمایا فرماں بردار ہو جا مجھ پر اللہ کے حکم سے ، تو وہ آپ کے ساتھ چلا اس طرح جیسے کوئی اونٹ کو نکیل ڈال کر لے جاتا ہے راوی بیان کر تے ہیں کہ

آپ ﷺ نے دوسرے درخت کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا جب یہ دونوں نصف راستہ طے کر کے درمیان میں پہنچے تو آپ ﷺ نے فرما یا . اللہ تعالیٰ کے حکم سے مجھ پر دونوں مل جاؤ پس وہ دونوں مل گئے” .اور دوسری روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرما یا اے جا براس درخت سے کہو کہ تجھ سے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اپنے ساتھی درخت سے مل جائے تاکہ میں تمہارے پیچھے بیٹھوں تو میں نے ایسا کیا اور چلا یہاں تک کہ وہ اپنے ساتھی (درخت) سے جا ملا تو آپ ﷺ ان دونوں کے پردے میں بیٹھے اور میں جلدی سے نکل آیا اور بیٹھ کر دل میں سوچنے لگا اتنے میں رسول ِ پاکؐ سامنے سے تشریف لا رہے تھے اور دونوں درخت جد ا ہوکر اپنی اپنی جگہ سیدھے کھڑے تھے تب رسول اللہ ﷺ نے تھوڑا سا توقف فرمادیا اور

ااا

اپنے سرِمبارک سے دائیں اور بائیں جانب اشارہ فر مایا.حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے غزوہ حنین میں نبی کریم ﷺ سے اس کے مثل بیان کیا ابو یعلیٰ بن مرہ و بن سابہ رضی اللہ عنہ سے بھی یہی مروی ہے انہوں نے بہت سے معجزات کو رسول اللہ ﷺ سے دیکھ کر بیان کیا وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بڑا درخت یا کیکر کا درخت اس نے آپ ﷺ کے گرد چکر لگایا پھر اپنی جگہ لوٹ گیا اس وقت رسول اللہ ﷺ نے فر ما یا اس نے اپنے رب سے اجازت مانگی تھی کہ وہ آپ ﷺ سے قرآن کریم سنے . حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حد یث میں کہ ایک رات درخت نے خبر دی کہ ایک رات جن نے نبی کریم ﷺ سے اجازت مانگی کہ وہ آپ ﷺ سے قرآن کریم سنے.

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!