ملک کی بڑی یونیورسٹی نے کیلے کے تنوں سے کپڑا تیار کرنے کا اعلان کر دیا

ملک کی بڑی یونیورسٹی

کائنات نیوز! یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور نے کیلے کے تنوں سے کپڑا بنانے کا اعلان کردیا ہے ، وائس چانسلر ڈاکٹر منصور سرور نے ٹیکسٹائل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کو استعمال شدہ کپڑوں اور کیلے کے تنوں سے دھاگہ بنانے کے عمل پرتحقیق کا ہدف دیا ہے ، اس حوالے سے خصوصی ٹیم بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔ تحقیق کا مقصد سرسبز ، صاف اور آلودگی سے پاک پاکستان کی سمت بڑھنا ہے

۔یوای ٹی لاہور اس سے قبل ری سائیکل دھاگے اور فیبرک کے کامیاب تجربات کرچکی ہے۔ تفصیلات کے مطابق دنیا بھر میں کپڑے کی مانگ میں اضافےکو مدنظر رکھتے ہوئے وائس چانسلر ڈاکٹر منصور سرور نے یو ای ٹی لاہور ، فیصل ا?باد کیمپس کے ٹیکسٹائل انجینرنگ ڈیپارٹمنٹ کو خصوصی ہدایات جاری کرتے ہوئے چیرمین ٹیکسٹائل ڈاکٹر محسن ، اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر عامر اور بی ایس سی ٹیکسٹائل فائنل ائر کے طلبہ عمار ، فرحان ، انشا، عبید اللہ ، علی اور احمد معین پر مشتمل خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے۔جو آر اینڈ ڈی ٹیکنالوجی کو مدنظر رکھتے ہوئے کپڑے کے مقامی فضلے کو ٹیکسٹائل پراڈکٹ میں تبدیل کرنے کا منصوبے پر تحقیق کریں۔واضح رہے کہ پاکستان میں 34 ہزار 800 ہیکٹر پر کیلے کی کاشت کی جاتی ہے ، جس سے سالانہ 1 لاکھ 54 ہزار 800 ٹن پیداوار حاصل کی جاتی ہے، کیلے کی ایک کھیت سے سالانہ 9 ہزار 100 کلو اوسطا کیلے کے تنے ضائع ہوتے ہیں ،

جنہیں یا تو جلا دیا جاتا ہے یا انہیں تلف کرکے کھلے آسمان تلے چھوڑ جاتا ہے ، جس سے ملک میں آلودگی کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ کیلے کا ریشہ کافی سخت ہوتا ہے جس سے دھاگہ بنانا مشکل ہوتا ہے، یو ای ٹی کے محققین کیلے کے ریشے کو کاٹن اور سوت کیساتھ ملا کر ایک نئی قسم کا دھاگہ تیار کریں گے ، یہ ٹیکنالوجی خالصتا پاکستان کی ہوگی اور اس پر میڈ ان پاکستان کا لوگو لگایا جائے گا ، اس ٹیکنالوجی کی کامیابی سے نہ صرف کپڑے کی بڑھتی ضروریات کو پورا کیا جائے گا بلکہ پاکستان سے آلودگی کا خاتمہ بھی ممکن ہوگا۔ مزید برآں یو ای ٹی کے محققین استعمال شدہ کپڑے کو ری سائیکل کرنے کے منصوبے پر بھی کام کریں گے ، کیونکہ اس وقت دنیا بھر میں صرف 1 فیصد کپڑا ری سائیکل کیا جاتا ہے ، اس منصوبے کی کامیابی بھی ٹیکسٹائل انڈسٹری میں ایک انقلابی قدم ہوگا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!