فاسٹ فوڈز سے پرہیز کیوں ضروری ہے؟شہریوں کیلئے بڑی خبر آگئی

کائنات نیوز! بین الاقوامی اور ملکی سطح پر اکثر نوعمر اشخاص کو’ فاسٹ فوڈ ز ‘ تناول کرتے دیکھا جاتا ہے،اب یہ ایک ایسی عادت بن چکی ہے کہ اس سے معاشرے کو مکمل طور پر بچانا ممکن نہیں ہے، علاوہ ازیں ایک بڑی تعداد نے باہر کی تیارکردہ قہووں اور چائے کا بے جا استعمال کرنا عادت کے طور پر اپنا لیا ہے۔مسائل کی ابتداء اس امر سے ہوتی ہے جب ہمیں یہ معلوم نہ ہوکہ جو اشیائے خورونوش ہمارے زیرِ استعمال ہیں ،

ان کے اجزائےترکیبی کیا ہیں۔ پھر یہ کہ کیا ان کا استعمال درست موقع پر ہی کیا گیا ہے یا بے ڈھنگے طور پر کیا گیا ۔ مثلاً قہوہ بنانے کی خاص ترکیب یہ ہے کہ پہلے ابلے ہوئے پانی میں جس شے کا قہوہ تیار کرنا ہو ڈالیں ، اب ٹھہر کر اس محلول کو ہلکی آنچ پر جوش دیں تا وقتیکہ آدھا یا چوتھائی حصّہ پانی رہ جائے، اب ہلکا سا ٹھنڈا کر کے پئیں۔اس طرح کھانوں میں بھی کچھ کھانے ایسے ہیں، جن میں تیل یا گھی میں پہلے لہسن یا پیاز کو سرخ کر لیں پھر باقی ماندہ اشیا ء ڈالی جائیں، مگر ہوٹلوں وغیرہ میں یہ ضروری نہیںکہ موقع کا لحاظ رکھتے ہوئے اجزا ڈالے جائیںاور درست طور پر جب پک جائے تو گاہکوں کو دیں۔ علاوہ ازیں یہ کہ مختلف اجزاء مختلف درجہ حرارت پر پکتے ہیں، مثلاً یہ درست نہیںکہ جس درجہ حرارت پر گوشت پکے اسی درجہ حرارت پر مصالحے بھی پکیں۔وہ اجزاء پھر کچے رہ جاتے ہیں،

اس لیے داخلِ شکم ہونے کے بعد یا تومعدہ کو متازی کرتے ہیںیا بغیر ہضم ہوئے آنتوں کی طرف چلے جاتے ہیں۔یہاں یہ بات ذہن نشین رہے کہ لحمیات (پروٹین) معدے ہی میں ہضم ہوتے ہیں ورنہ پروٹین نہیں جسم میں جذب ہو پاتے اور بہت زیادہ کھانے کے باوجود بذریعہ بولوبرازجسم سے خارج ہوجاتے ہیں۔ یادرہے کہ کھانا امعاء میں زیادہ وقت ٹھہر جاتا ہے۔امعاء کے چار حصے ہیں ، امعاء دقیق ، امعاء صاعد، امعاء نازل اور امعاء تعرعض ۔ یہ بڑی آنتوں کے حصے ہیں، چھوٹی آنت سے خوراک جب بڑی آنت تک پہنچتی ہے، اس وقت تک کاربوہائی ڈریٹ اور اسٹارچ ہضم ہوچکے ہوتے ہیں۔ اب بڑی آنتوں میں غذاء پہنچنے پر ’فائبر ‘کی ضرورت ہوتی ہے، تاکہ خوراک بندھ جائے اور فضلے کے طور پر خارج ہو سکے۔ افسوس یہ کہ فاسٹ فوڈز ان فائبر سے یا تو خالی ہوتے ہیں یا ان میں اس قدر قلیل فائبر پائے جاتے ہیں کہ اپنا فعل انجام نہیں دے پاتے۔فاسٹ فوڈز نقصان کیوں دیتے ہیں؟

کسی بھی خوراک کا اجزائے ترکیبی کا امتزاج یا مزاج درست نہ ہو ، وہ نقصان دیتے ہیں۔کوئی ذی شعور یہ نہیں کہہ سکتا کہ نقصان کا مطلب فوری طور پر قے ، قبض، بسط (اسہال) کا لاحق ہونا ہے، بلکہ سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ ہم سمجھ رہے ہوں کہ بچوں نے یا ہم نے خوراک بڑی موزوں اور قوت بخش لی ہے، مگر درحقیقت وہ جزوِ بدن نہ بن رہا ہو اور انسان لاغری کی منازل طے کر رہا ہو۔ہمہ وقت یہ موقع ہاتھ آیا کہ باورچی حضرات کے ہنر کی تصیح کی جائے مگر ان کے الفاظ ’ہم نے پردادا جان سے سیکھا ہے‘، مایوس لوٹنا پڑا اور جوان بالخصوص بڑھتے بچوں کو ’کولڈ ڈرنکس ‘ کے ہمراہ یہ خوراک تناول کرتے دیکھ کر از خود جذباتی ہونا پڑاکہ جب سینڈوچ کی طرف دھیان کیا تو ڈبل روٹی پر آنچ درست طور پر نہیں دی گئی تھی، جب برگر بننے کے طریقے پر نظر کی تو دیکھا کہ کم گھی میں پکایا گیا، جب مرغ پر نگاہ کی تو شیور کی نکلی ،

جب گوشت پکنے کے طریقے کا خیال کیا تو دیکھا اس قدر تیز آنچ پر پکایا جا رہا تھا کہ ساری غذائیت برباد ہو گئی اور چکھا تو اتنی خشکی ہوئی کہ کولڈ ڈرنک کا استعمال نا قابلِ فراموش پایا، پھر سمجھ آیا کہ ہوٹل کولڈ ڈرنکس بیچنے میں کس طرح معاون ہیں۔1۔ موٹاپا : لحمیات کا کم ہضم اور کاربوہائی ڈریٹ کا بالمقابل زیادہ جزوِ بدن بننے کی وجہ سے موٹاپا ہوجاتا ہے۔2۔ بال گرنا : خوراک میں مزاج کا خیال نہ رکھنے کی وجہ سے خشکی کا عارضہ ہونا بال گرنے کا سبب بنتا ہے۔3۔ قبض: ڈبل روٹی ، بن وغیرہ پر تیل ؍ گھی کی کم مقدار میں پکانے کے وجہ سے ان کی آنتوں میں موجود پانی جذب کرنے کی کیفیت بڑھ جاتی ہے ، جس سے آنتوں میں خشکی اور قبض عارض ہوتی ہے۔4۔ اسہال: مرچ مصالحے کی زیادتی تاکہ کھانا چٹ پٹا بنے ، کچھ جگہ نہایت کمی تاکہ اپنی پروڈکٹ منفرد لگے، اسہال کا سبب بنتے ہیں۔5۔ بچوں کے قد بڑھنے میں کمی:

خوراک کے تمام اجزاء پکنے میں نا تمام ہونے کی وجہ سے جگر پر برا اثر پڑتا ہے لہذا بیماری میں مبتلا ہونے کی وجہ سے بچوں کا قد ٹھیک طور پر بڑھ نہیں پاتا۔6۔ ہڈیوں کی کمزوری: اکثر فاسٹ فوڈز اس قدر خشکی پیدا کرتے ہیںکہ کولڈ ڈرنکس کی ضرورت پڑتی ہے ، لہذا تیزابیت بڑھنے کی وجہ سے معدے میں ریح

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!