بی بی فاطمہ زہرہ ؑ کا روزہ ،قرآن کی آیت نازل کیوں ہوئی؟ایمان افروز واقعہ

کائنات نیوز! ایک مرتبہ امام حسن ؑ اور امام حسینؑ شدید بیمار ہوگئے تو امام علیؑ اور بی بی فاطمہ زہرہؑ نے منت مانگی کہ اے میرے اللہ تعالیٰ جب ہمارے دونوں شہزادے صحت یاب ہونگے تو ہم تین دن تیرے لیے روزہ رکھیں گے ۔ اللہ تعالیٰ کے کرم سے جب دونوں شہزادے صحت یاب ہوگئے تو امام علیؑ نے بی بی فاطمہ الزہرہ ؑ سے فرمایا فاطمہ ؑ ہم نے جو حسنؑ اور حسینؑ کی صحت یابی کیلئے روزے کی نیت کی تھیمیں یہ چاہتا ہوں کہ

روزہ اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ کے ساتھ افطار کریں بی بی فاطمہؑ نے فرمایا یا علیؑ اس سے بہتر کیا ہوگا آج رسول اللہﷺ کیساتھ روزہ رکھتے ہیں اور انشاء اللہ افطار بھی ساتھ کریں گے ۔ اللہ تعالیٰ کے رسول اللہ ﷺ کو یہ علم ہوا تو آپ اپنے مبارک قدم لیے بی بی فاطمہ الزہرہ ؑ کے گھر آگئے ۔ گھر میں اس وقت سحری کیلئے سوائے پانی کے کچھ نہ تھا ۔اللہ تعالیٰ کے رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی بہترین نعمتوں میں سے ایک نعمت پانی ہے آپ نے پانی پیا اور روزے کی نیت کردی ۔رسول اللہﷺ کو دیکھ کر امام علیؑ نے ایسے ہی کیا ۔جو ننھے شہزادے حسن ؑ اور حسینؑ بہت کمسن تھےانہوں نے اپنے نانا، بابا اور ماں کو دیکھا تو دست ادب کو جوڑکر عرض کرنے لگے اے نانا جان اے بابا جان اے امی جان

جب اے اللہ تعالیٰ کے عشق میں پانی کیساتھ روزہ رکھ سکتے ہیں کیا ہمیں اجازت ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے عشق میں روزہ رکھیں ان پاک ہستیوں نے حسنؑ اور حسینؑ کا ماتھا چوما اور پنجتن پاک نے روزہ رکھ لیا ۔امام علیؑ مزدوری کیلئے گھر سے باہر گئے اور مزدور ی کرنے کے بعد جو لیکر اپنے گھر واپس آئے بی بی فاطمہ الزہرہ ؓ نے ان کو پیس کر پانچ روٹیاں بنائیں افطاری کا وقت قریب آنے لگا اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ گھر میں تشریف فرماہوئے ۔پنجتن پاک کا دسترخوان سجا اور حسن ؑ اور حسینؑ بی بی فاطمہ الزہرہ ؑ امام علی ؑ اور اللہ تعالیٰ رسول اللہﷺ نے دستر خوان پر بیٹھے اور پانچ روٹیاں پنجتن پاک میں تقسیم کیں ۔ جیسے ہی روزے کھونے کا وقت قریب آنے لگا اتنی دیر میں دروازے پر کوئی آیا اور کہنے لگا

میں غریب وفقیر ہوں اللہ تعالیٰ کے نام پر مجھے کو ئی روٹی کھلائےاللہ تعالیٰ کے محبوب نے جب یہ سنا علی ؑ میرے حصے کی روٹی لو اور اس سوالی کو دو امام علی ؑ نے فرمایا یا رسول اللہﷺ اس مستحق کو میں بھی اپنے حصے کی روٹی دوں گا بی بی فاطمہ الزہرہؑ بابا جان اس مستحق کو میں بھی اپنے حصے کی روٹی دونگیامام حسنؑ اور حسین ؑنے فرمایا نانا جان اس مستحق کو ہم بھی اپنے حصے کی روٹی دینگے ۔امام علی ؑ پانچوں روٹیاں جو پنجتن پاک کے حصے کی تھیں دروازے پر آئے اور اس فقیر کو دے دیں اور سب نے پانی سے روزہ افطار کیا اور اللہ تعالیٰ کا شکر کیا ۔اللہ تعالیٰ کے محبوب نے فرمایا ہم روزہ کل رکھیں گے ۔ پھر سے سحری کا وقت آیا سب نے پانی سے سحری کی اور ویسے ہی امام علیؑ مزدوری کیلئے باہر گئے

شام کو اتنی ہی جو لائے جس سے پانچ روٹیاں بن سکیں ۔ حضرت فاطمہ الزہرہ ؑ نے ویسے ہی پانچ روٹیاں بنائیں اور دستر خوان بچھایا اور اللہ تعالیٰ کےرسول اللہﷺ گھر میں داخل ہوئےجیسے ہی افطار کا وقت قریب آیا اور دروازے پر پھر سے کوئی آیا اور کہنے لگا میں یتیم ہوں ہے کوئی اللہ تعالیٰ کابندہ جو مجھے کھانا کھلائے ۔اللہ تعالیٰ کے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا علیؑ میرے حصے کی روٹی اس مستحق کو دے کر آؤ ۔امام علیؑ نے فرمایا یا رسو ل اللہﷺمیں بھی حصے کی روٹی دوں نگا ۔ پنجتن پاک کی پانچوں روٹیاں اس یتیم کو جا ملیں اور پنجتن پاک نے پھر سے پانی سے افطار کرکے اللہ تعالیٰ کا شکر کیا اور یہ طے پایا کل روزہ رکھیں گے ویسے ہی پانی کیساتھ سحری کی ۔پھرسے تیسری دفعہ ایسا عمل ہوا کہ افطاری کے وقت بیٹھے ہی تھے کہ

دروازے پر آواز کے ابھی ہی قید سے رہا ہوا ہوں مجھے معلوم ہوا کہ مدینہ میں اس گھر سے کوئی سخی نہیں ہے کوئی اللہ تعالیٰ کا بندہ جو اس بھوکے بندے کو کھانا کھلائے ۔ آپﷺ مسکر ا کرفرمانے لگے علیؑ میرے حصے کی روٹی اس کو دے کر آؤ سب نے اپنے حصے کی روٹی پھر سے دیدی ۔جب امام علیؑ پنجتن پاک کی روٹیاں اس قیدی کو دے کر واپس آنے لگے تو اتنی دیر میں جبرائیل امین نازل ہوا اور فرمانے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پنجتن پاک کی شان میں سورۃ الدہر کی اس آیت کو نازل کردیا کہ آپ مساکین یتیم اور اسیر کو اللہ تعالیٰ کے عشق میں خود بھوکا رہ کر کھانا کھلاتے ہیں مساکین یتیم اور اسیر کو کہتے ہیں کہ ہم تمہیں کھانا اللہ تعالیٰ کیلئے دیتے ہیں

اس کا بدلہ یہ شکرگزاری نہیں مانگتے ۔اللہ تعالیٰ کا سلام ہو آپ پنجتن پاک پر اور اللہ تعالیٰ نے آپ پنجتن پاک کے ان تین روزوں کو آنیوالی امت کیلئے صراط مستقیم کا ایک چراغ رکھا ۔ سلام ہو جبرائیل ؑ امین پر سلام ہو حسن ؑ اور حسینؑ پر سلام پر فاطمہ الزہرہؑ پر سلام ہو شیرخدا علی ابن ابی طالب پر اور سلام ہو اللہ تعالیٰ کے رسول حضرت محمدمصطفیٰﷺ پر۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!