سونف اور مصری کیا کرسکتے ہیں؟ قدرت کے اس چھوٹے سے تحفے میں کیافوائد پوشیدہ ہیں

کانئات نیوز! اس کا رنگ زرد سبزی مائل اور ذائقہ شیرین ہوتا ہے ۔ اس کا مزاج گرم اور خشک اور دوسرے درجے میں ہے ۔ اس کی مقدار خوراک چھ ماشہ سے ایک تولہ تک ہے ،سونف کے فوائد درج ذیل ہیں ۔سونف ہاضم اور کاسر ریاح ہوتی ہے ۔پیشاب اور اور حیض کو جاری کرتی ہے ۔سینہ ، جگر ، طحال اور گردہ کے سدے نکالتی ہے ۔پیٹ کے درد، اپھارہ اور قولنج میں بے حد مفید ہے

۔پیچش کی بیماری میں مریض کو دوتولہ سونف، پانچ تولہ گلقند پانی میں رگڑ کر گرمیوں کے موسم میں (اور جوش دے کر سردیوں کے موسم میں )تین یا چار بار دن میں پلانے سے آرام ملتا ہے ۔بینائی کو قائم رکھنے کے لیے اس کے جوشاندہ یا بادیان سبزکے پانی میں سرمہ کی طرح پیس کر آنکھوں میں لگاتے ہیں ۔سونف کمزوری دماغ اور قوت ہاضمہ کے لئے بہترین دوا ہے ۔پرانے بخاروں میں بے حد مفیدہے ۔ ایسے میں اسے سکنجبین کے ہمراہ دیتے ہیں ۔بینائی اور دماغ کی طاقت کے لئے سونف اور مصری چھ ماشہ کو باریک پیس لیں پھر اس میں سات عدد چھلے ہوئے بادام کو ٹ کر شامل کرلیں اور رات کو سوتے وقت نیم گرم دودھ کے ساتھ چبا کر کھائیں ۔ اس کے بعد کوئی چیز نہ کھائیں ۔ چالیس روز تک استعمال کرنے سے عینک بھی اُتر سکتی ہے ۔نزلہ زکام کے لئے سونف ایک تولہ ، شکر سرخ دو تولہ آدھ سیر پانی میں جوش دیں جب آدھ پاؤ رہ جائے تو چھان کر گرم گرم پینے سے فائدہ ہوتا ہے ۔

درد معدہ کو دور کرنے کے لئے سونف پانچ تولہ ، نمک ایک تولہ دونوں کو باریک پیس لیں بوقت ضرور ت ایک ماشہ سفوف ہمراہ عرق سونف لینا بے حد مفید ہے ۔خفقان اور غشی کی صورت میں سونف کو باریک پیس کر ہم وزن گل گاؤزبان استعمال کرنا مفید ہے ۔سونف کا سفوف ٹھنڈے پانی کے ساتھ پھانکنا بخار میں ہونے والی متلی کو روک دیتا ہے اور معدے کی سوزش کو دور کرتا ہے ۔عرق سونف کا باقاعدہ استعمال خصوصاً بچوں اور عموماً بڑوں کے معدے کو مقوی کرتا ہے ، سفوف ہمراہ پانی استعمال کرنا چاہیے ۔منہ میں تھوڑی سی سونف ڈال کر چباتے رہنے سے بیٹھی ہوئی آواز ٹھیک ہو جاتی ہے ۔دودھ پلانے والی مائیں اگر گاجر کے بیج تیس گرام اور سونف چھ گرام سفوف بنا کر ایک پیالی دودھ کے ساتھ حسب طبیعت لیں تو فائدہ ہوگا

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!