قوم نےمیرے ساتھ کھڑے ہونا ہے، ہم کامیاب ہورہے ہیں‎

کائنات نیوز! وزیراعظم عمران خان نے عوام سے براہ راست گفتگو کرتے ہوئے کہا کوروناکی پہلی اور دوسری لہر میں قوم نے پوری طرح تعاون کیا، پاکستان خوش قسمت ہے جو اچھی طریقے سے پہلی ،دوسری لہر سے نکلا،اللہ کا کرم ہے کہ ہم نے دونوں طرف سے لوگوں کو بچایا۔عمران خان نے مزید کہا کہ انصاف کی جدوجہد لڑنے کیلئےتحریک انصاف بنائی تھی ، ہم کامیاب ہورہے ہیں ،

اسٹیٹس کو اور مافیاز سے لڑرہےہیں ، قوم نےمیرے ساتھ کھڑے ہونا ہے ،اللہ نے مجھے لڑنے کی ٹریننگ دی ہے ، میں ان مافیاز سے لڑکر اور جیت کر دکھاؤں گا۔دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وزیر خزانہ شوکت ترین کو دو وجوہات پر لے کر آیا ہوں کہ وہ مہنگائی کو روکے اور دوسرا شرح نمو بڑھائیں ۔وزیراعظم نے مہنگائی کے خاتمے سے متعلق ایک شہری کے سوال کے جواب میں کہا کہ طاقت ور مل کر کارٹیل بناتے ہیں جیسے چینی کا معاملہ ہے وہ مل بیٹھ کر چینی کی قیمت طے کرتے تھے پہلی دفعہ حکومت نے قیمت طے کی ہے تو نیچے آگئی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیرخزانہ کو صرف دو وجوہات پر لے کر آیا ہوں کہ وہ مہنگائی کو روکے اور دوسرا شرح نمو بڑھائیں تاکہ لوگوں کو نوکریاں ملیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں پیٹرول امریکا اور بھارت سے بھی سستا ہے تاکہ لوگوں کو مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے، مہنگائی صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں ہے

بلکہ کووڈ کی وجہ سے دنیا بھر میں مہنگائی ہوئی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ مہنگائی کے بارے میں ٹی وی پر بڑی باتیں ہوتی ہیں اور لوگ مجھے بتا رہے ہوتے ہیں، اپوزیشن کا کام تو یہ باتیں کرنا ہے۔میڈیا کو مخاطب کرکے انہوں نے کہا کہ جب آپ کہتے ہیں ملک تباہ ہوگیا، یہ بھی غلط اور وہ بھی غلط ہے تو مانا مہنگائی ہے جیسا میں نے کہا کہ پوری دنیامیں مہنگائی ہے لیکن ہم مہنگائی پر کنٹرول کرنے کے لیے کوششیں کررہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ میں نئے وزیرخزانہ کو اسی لیے لے کر آیا ہوں اور ان کو مینڈیٹ دیا ہوا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں حکومت میں آئے 2 سے ڈھائی سال ہوگئے ہیں لیکن گزشتہ 50 سال خاص کر 30 برسوں میں پچھلی حکومتوں نے سوائے لوٹ مار کے کچھ نہیں کیا۔اپوزیشن اور نواز شریف پر تنقید کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ میرا لندن کا فلیٹ ڈیکلیئرڈ تھا لیکن انہوں نے مجھے انتقام کا نشانہ بنایا جبکہ یہ خود بھاگے ہوئے ہیں،

آج عدلیہ آزاد ہے واپس آکر اس کا سامنا کیوں نہیں کرتے، مجھے پتا ہے یہ لندن میں جن علاقوں میں رہتے ہیں وہاں برطانیہ کا وزیراعظم بھی نہیں رہتا۔انہوں نے کہا کہ میں حکومت میں ہوں یا نہیں میں آپ کو اس وقت تک نہیں چھوڑوں گا جب تک آپ ملک کا پیسہ واپس نہیں کرتے۔ انہوںنے کہاکہ میڈیا میں بیٹھ کر کہا جاتا ہے سب کچھ تباہ ہوا تو یہ ادارے کوئی ایک یا دو سال میں تباہ نہیں ہوئے، ایک نیا ادارہ بنانا آسان ہے لیکن پرانے خراب ادارے کو ٹھیک کرنا مشکل ہے۔انہوںنے کہاکہ ہم نے پشاور کا شوکت خاتم ہسپتال 3 سال میں کھڑا کیا لیکن پشاور کے سرکاری ہسپتالوں کو بہتر کرنے کے لیے 7 برسوں سے کوشش کر رہے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں جو معیشت ملی تھی اس میں پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا خسارہ تھا، ہمارے ریزرو دس ارب تک گر چکے تھے، بیرون ملک قسطیں دینی تھیں وہ اس سے زیادہ تھے یعنی ہم دیوالیہ تھے۔

انہوںنے کہاکہ کوئی نہیں سمجھتا تھا کہ ہمارے خزانے میں اضافہ ہوگا بیرونی ملک سے ترسیلات زر دیوالیہ کے قریب تھے، اگر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین ہمیں پیسے نہ دیتے تو ہم دیوالیہ کر گئے تھے، ہمارا روپیہ ڈھائی سے تین سو فی کس ڈالر تک جانا تھا اور آج تباہی مچی ہوتی۔وزیراعظم نے کہا کہ ہماری برآمدات 13.5 فیصد بڑھی ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں برآمدات نہیں بڑھی تھیں، ملک میں مالی خسارے سے نکل کر سرپلس پر چلے گئے ہیں، ٹیکس میں پچھلے دس ماہ میں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے اور آج ٹیکسٹائل کے لیے لیبر نہیں مل رہی ہے، ٹوئٹا والے کہہ رہے ہیں جب سے ہم نے پلانٹ لگایا ہے اب سب سے زیادہ گاڑیاں بیچی ہیں، اس کا مطلب ہے کچھ تو ہورہا ہے، میں سوال کرتا ہوں کہ جب ہماری برآمدات بڑھ رہی ہیں، معیشت بہتر ہورہی ہے، سیلز بڑھ رہی ہے تو یہ لوگ بیٹھ کر مایوس کرتے ہیں کہ

کچھ نہیں ہو رہا ہے۔قبل ازیں وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے 27ویں شب کو مسجد الاقصیٰ میں فلسطینیوں پع جو ظلم کیا، میں نے اس کی مذمت کی ہے۔ ٹیلیفون پر عوام سے براہ راست گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہاکہ میں نے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کو بھی کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر ترکی اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ سے بات کریں، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے میں نے خود اسلاموفوبیا پر بات کی اور سب کو مل کر مقابلہ کرنا چاہیے کیونکہ ایک ملک کچھ نہیں کرسکتا اور اسی کے لیے ہم کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پہلے اسرائیل نے فلسطینیوں پر جو ظلم کیا ہے اس پر کام کریں پھر اسلاموفوبیا پر مشترکہ کوششیں کریں۔دریں اثنا وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جہانگیر ترین کے ساتھ ناانصافی نہیں کی۔ ٹیلیفون پر عوام سے براہ راست گفتگو میں وزیراعظم نے جہانگیر ترین سے متعلق ایک شہری کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ کہہ رہے ہیں

کہ ان کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے لیکن جہانگیر ترین کو واضح طور پر کہا ہے، میں نے ناانصافی کبھی کسی سے نہیں کی۔انہوںنے کہاکہ جو میرے مخالف ہیں جن کے خلاف میں نے 25 سال جنگ لڑی ہے اور جہاد کیا ہے، کسی سے بھی میں نے کسی قسم کی ناانصافی نہیں کی، کوئی آج مجھے کہے کہ کسی پر جھوٹا کیس بنایا ہے اور انتقامی کارروائی کی ہے، کوئی ایک جگہ بتائیں۔انہوں نے کہا کہ تو جب میں مخالف سے نہیں کرتا تو اپنی پارٹی میں جہانگیر ترین سے کیوں کروں، اس لیے ناانصافی کسی سے بھی نہیں ہونی چاہیے لیکن یہ میرا وعدہ ہے کہ جنہوں نے چینی مہنگی کرکے عوام کو تکلیف پہنچائی ہے اگر میری حکومت بھی چلی جاتی ہے تو ان کو این آر او نہیں ملے گا۔عمران خان نے کہا کہ ملک کے بڑے سیاست دان اور اشرافیہ سب کی شوگر ملز ہیں، جب چینی ایک روپے مہنگی ہوتی ہے تو عوام کے جیب سے 5 ارب روپے نکل کر شوگر ملوں کے پاس چلے جاتے ہیں

اور ہمارے دور میں 25 روپے چینی مہنگی ہوگئی تو سوچیں ایک سو ارب سے زائد روپے عوام کے جیبوں سے نکل کر شوگر ملز کو گئے۔انہوں نے کہا کہ شوگر ملوں نے 5 برسوں میں ٹیکس 22 ارب روپے دیا ہے، اس میں سے ان کو 12 ارب روپے واپس ملے تو مجموعی طور پر 10 ارب روپے انہوں نے ٹیکس دیا جبکہ 5 برسوں میں 29 ارب روپے سبسڈی ملی ہے۔انہوںنے کہاکہ یہ طاقت ور لوگ نہ ٹیکس دیتے ہیں اورچینی جب چاہے مہنگی کرتے ہیں لیکن سارا سال چینی کی قیمت اوپر جاتی ہے، اس لیے میرا وعدہ ہے کہ مافیا سے کوئی رعایت نہیں ہوگی لیکن کسی سے ناانصافی بھی نہیں ہوگی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!