”خبردار ! بیوی کے ساتھ یہ تین کام کبھی بھول کر بھی مت کرنا ورنہ بیماری ،

کائنات نیوز! محبت کی منزل نکاح ہے زن ا نہیں، شوہر ہی عورت کا اصل محافظ ہوتا ہے ۔ عورت سے سچی محبت اس کا شوہر ہی کرسکتا ہے کوئی نامحرم نہیں۔ عورت چاہے کسی بھی سوسائٹی کی ہو، کتنی ہی پڑھی لکھی کیوں نہ ہو، کتنی لبرل اور ماڈل ہو، خود کوجتنا بھی برانڈ ما ئنڈڈ شو کرے ، مگراپنے “مرد” کو دوسری عورت کے ساتھ شیئر کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتی۔ چاہے مرد”من چاہا” ہویا “ان چاہا” سوتن سے حسد فطری عمل ہے۔

عورت محبت کا ساگر ہے ، عورت محبت کی بقا کی ضامن ہے ، عورت کائنات میں توازن قائم رکھنے کی وجہ بھی ہے۔ مگر افسوس مرد کے لیے عورت صرف جسم ہے۔عورت چاہے ان پڑھ ہو یا تعلیمی میدان میں ڈگری ہولڈر وہ مرد کی تقسیم برداشت نہیں کرتی۔ عورت کی قیمت اس کی اپنی حیاء ہوتی ہے۔ بے حیاء عورت کی قیمت کوڑیوں کے برابر ہوتی ہے۔ نکاح کا لا لچ دے کر روح کی دھجیاں اڑانے والو اس کا قرض تم اپنے گھر سے ادا کرو گے۔ جو شخص اپنی بیوی کے ساتھ یہ تین کام کرتا ہے ۔ غربت اور بیماری کو اس کی زندگی میں آنے سے کوئی روک نہیں سکتا۔ پہلے بیوی کو رلائے گا ، دوسرا بیوی کو اس کاحق نہیں دےگااور تیسرا بیوی کی بددعائیں لے گا۔ عورت کی محبت کی کوئی فلاسفی نہیں کبھی یہ گھر کے ملازم کو دل دے بیٹھی ہے۔ اور بادشاہ کو بھی

خاطر میں نہیں لاتی اور ایک بڑے پڑھے لکھے اور سلجھے ہوئے مرد کو نظرانداز کرکے ایک آوارہ اور چھچھورے سے انسان کومنظور نظر بنالیتی ہے۔ عورت اگر بسنا چاہے تو جھونپڑوں میں خوش رہتی ہے اور نہ بسنا چاہے تو محلول کو لات ماردیتی ہے۔ کبھی یہ سادگی کا مذاق اڑاتی نظر آتی ہے۔ اور کبھی ظرف کی قدردانی کی حد کردیتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!