ڈکیتی کا ملزم ضمانت پر رہا ہوکر دوبارہ بینک لوٹنے پہنچ گیا،جانئے ایک انوکھا قصہ

کائنات نیوز ! امریکی ریاست نیویارک کے ایک بینک میں ڈکیتی کرنے والے شخص کو ضمانت پر رہائی ملی تو ملزم بغیر وقت ضائع کیے دوبارہ ڈکیتی کی واردات کرنے پہنچ گیا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق بینک ڈکیتی کی دلچسپ واردات امریکی ریاست نیویارک کے شہر نیویارک میں پیش آئی جہاں ایک ملزم نے منگل کے روز بینک میں داخل ہوکر کیشئر کو پرچی دی جس پر لکھا تھا

کہ میرے پاس پستول ہے اور میں بینک لوٹنے آیا ہوں، میرے بیگ میں پیسے بھر دوں، یہ پیسے میں استعمال کروں گا۔بینک ملازم نے 2300 ڈالر(تقریبا ساڑھے تین لاکھ روپے)کی رقم ڈکیٹ کے حوالے کی، جسے لیکر وہ بینک سے نکلا مگر بدقسمتی سے کچھ دیر بعد ہی پولیس نے ڈکیت کو گرفتار کرلیا۔پولیس نے ملزم کو عدالت میں پیش کیا تو ملزم کے وکیل نے اسے ضمانت پر رہائی دلوا دی۔ملزم نے بغیر کوئی وقت ضائع کیے عدالت سے نکلتے ہی ڈکیتی کی نیت سے اسی بینک کی دوسری برانچ کا رخ کیا اور بینک سے محض 100 ڈالر (تقریبا 1500 روپے)کی معمولی رقم لوٹی لیکن اس مرتبہ پھر قسمت نے ساتھ نہ دیا اور ملزم بینک سے باہر نکلنے کے کچھ لمحوں بعد پولیس کے ہاتھوں دوبارہ گرفتار ہوگیااورحوالات میں بند کردیاگیا

اسلام آباد میں مساج سنٹر پر چھاپہ برہنہ پکڑے جانیوالے شخص نے اپنا تعلق کس بااثروفاقی وزیر کیساتھ بتایا؟

وفاقی پولیس کا مساج سنٹر پر چھاپہ ، متعددخواتین اور مردوں کو حراست میں لے لیا،میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ مساج سنٹر کی آڑ میں مبینہ فحاشی کے دھندے کو فروغ دیا جارہا تھا جس کا قلع قمع کرنے کے لئے ایکشن لیا گیا ہے۔ مساج سینٹر سے پکڑے گئے ایک شخص نے پولیس پر دبا ئوڈالنے کی کوشش کی اور کہا کہ وہ وفاقی وزیر کے ساتھ ہوتے ہیں۔سوشل میڈیاپر سامنے آنیوالی ویڈیو میں بھی سنا جاسکتا ہے کہ مذکورہ شخص پرویز خٹک کا نام لیتے ہیں جس کے بعد چھاپہ مار ٹیم کے سربراہ نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں کہ انہیں بتایاجائے کہ آپ کو برہنہ حالت میں دیکھا ہے ۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مساج سنٹرز کی آڑ میں عصمت فروشی کے علاوہ شیشہ سنٹرز کی بھی بھرمار ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق گرفتار ہونے والی ایک لڑکی کو اسی رات تھانے سے چھڑوا لیا گیا تھا جبکہ باقی گرفتار افراد کو اگلے روز مقامی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سے انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔دوسری طرف متعلقہ سیلون کی انتظامیہ کے حوالے سے بتایا گیا ہےکہ قبل ازیں بھی پولیس2 مرتبہ کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر یہ سیلون سیل کرچکی ہے۔مساج سینٹر کی انتظامیہ کے مطابق تین روز قبل رات پونے آٹھ بجے چھاپہ مار ٹیم دوبارہ آئی اور ہمارے دو کلائنٹس اور سٹاف میں شامل چار افراد جن میں دو غیرملکی بھی شامل تھے کو حراست میں لے لیاجبکہ چھاپہ مار ٹیم کے ساتھ لیڈیز پولیس بھی نہیں تھی

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!