قرآن مجید کی اس سورۃ مبارکہ کا صرف ایک دن کا عمل ہر جائز خواہش پوری ہو گی اوررزق میں بھی فراوانی ہوگی

کائنات نیوز! سورۃ یسین سے اپنی مشکلات کا حل نکالا جاسکتا ہے یہ سورۃ قرآن پاک کا دل ہے اس کے پڑھنے کے کیا کیا فائدے ہیں اور اس سورت کو روزانہ پڑھنے سے کن کن مشکلات سے بچا جاسکتا ہے اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کو اس وظیفہ کا پورا فائدہ ہو تو اس تحریر کو مکمل غور کے ساتھ پڑھئےتا کہ وظیفہ آپ کو ذہن نشین ہوجائے کیونکہ اگر ایک چھوٹا سا کام بھی رہ جائے

تووظیفہ پوری طرح اثر نہیں کرتا ۔رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہر چیزکے لئے دل ہوتا ہے اور قرآن کا دل سورت یسین ہےاور جس شخص نے سورت یاسین کی تلاوت کی تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے دس بار قرآن پڑھنے کا ثواب لکھے گا نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشادفرمایا کہ اللہ کی رضا مندی کے لئے جو شخص سورت یسین پڑھے گااس کے پہلے گناہ معاف کر دیئے جائیں گےلہٰذا اس سورت کو مرنے والوں کے پاس پڑھا کرو اور یہ بھی ارشاد فرمایا :کہ جس نے رات کے وقت سورہ یٰسین پڑھی اس حالت میں صبح کو اٹھے گا کہ وہ بخشا ہوا ہوگا بلکہ رسول اللہ ﷺ کی یہ تمنا تھی کہ میرے ہر امتی کے دل میں سورت یسین ہو کیونکہ سورت یسین پڑھنے کے بے شمار فوائد ہی حاصل کی بات تو یہی ہے کہ

ہر حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے طے ہے اور ہر چیز کا وقت مقرر ہےلیکن یہ عمل ان کے لئے ہے جو شادی کے طالب ہوں یا جن کی عمر گزر گئی اوررشتے نہیں ہوتے وہ خود کرلیں تو زیادہ بہتر ہے ور نہ اس کے گھر میں سے کوئی بھی کرسکتا ہے شادی کے لئے ایک مفید عمل روزانہ نمازِ فجر کے بعد یا صبح شام سورت یاسین کو پڑھنے سے جلد از جلد شادی ہوجائے گیانشاء اللہ تعالیٰ اس وظیفہ کو پڑھنے سے مشکل سے مشکل حاجت پوری ہوجاتی ہے بلکہ قیدی تک رہا ہوجاتے ہیں ۔یہ بہت ہی نایا ب عمل ہے اور مجرب و اکسیر بھی ہے یہ عمل آپ کسی قیدی کو رہائی دلانے کے لئے پڑھیںآپ اس عمل کو روزانہ نماز فجر کے بعد یا صبح و شام پڑھیں انشاء اللہ قیدی کو جلد از جلد رہائی مل جائے گی مقروض پڑھے تو قرض ادا ہوجائے گا۔

جیسا کہ عالم یہ ہے کہ پورا ملک قرضے میں پھنسا ہوا ہے مہنگائی حد سے بڑھ چکی ہے قرض لے کر اس امید پر کاروبار کرنا پڑتا ہے کہ روپیہ آتے ہی قرض ادا کردیں گےلیکن قرض ایسامرض ہے کہ بمشکل ہی ادا ہوپاتا ہے قرض کے بارے میں حکم ہے کہ مرنے سے پہلے ادا کرنا چاہئےبہت سے لوگ قرض ادا نہیں کر پاتے تو ان کی اولاد میں بھی اس کی سکت نہیں ہوتی قرض کی ادائیگی کے لئے لوگ قرض لے کر قرض بھی ادا کرتے ہیں لیکن قرض پھر بھی ادا نہیں ہوتا اس کے لئے روحانی وظائف بھی پڑھے جاتے ہیں اور وہ وظیفہ یہ ہے کہ روزانہ نماز فجر کے بعد صبح و شام سورت یسین کو پڑھنے سے جلد از جلد مقروض کا قرض ادا ہوجائے گا۔اکثر لوگوں کے زبان یہ گلہ و شکایت رہتی ہے کہ ان ہاتھوں میں پیسے ٹکتے نہیں بلکہ

خرچ ہو جاتے ہیں ۔ ایسے لوگ جن کےپیسوں میں یا رزق میں برکت نہیں تو پریشان نہ ہوں بلکہ اس مسئلے میں مبتلا افراد روزانہ نماز فجر اور عشا کی نماز کے بعد گیارہ ،گیارہ سو مرتبہ ”یا غنی ‘‘ کا ورد کریں ۔ اللہ تعالی کے فضل کرم سے ان کے رزق میں بے . پناہ اضافہ اور برکت آجائے گی ۔ یہ مجرب وظیفہ رزق اور بندش کے خاتمہ کیلئے نہایت بہترین ہے ، کوئی بھی دکاندارستر مرتبہ ”یا غنی‘‘ پڑھے گا تو انشآللہ اللہ پاک کاروبار میں برکت اور رزق میں اضافہ ہو گا اور کبھی بھی کسی نقصان کا خوف نہیں رہے گا ۔جمعرات اور جمعہ کی شب اس اسم شب اس اسم مبارک ”یا غنی ‘‘ کو انیس ہزار مرتبہ پڑھنے اور عمل کو جاری رکھنے سے انسان کو غیب سے دولت ملتی ہے ۔اوربہت جلد کاروبار میں ترقی ہوگی

اور رزق حلال کہاں کہاں سے آئے گا کہ عقل دنگ رہ جائے گی ‎‎آپ نے اکثر نوٹ کیا ہوگا کہ شاعر، مصنف، پینٹر، فلسفی، سائنسدان، مفکر اور دیگر تخلیقی صلاحیتوں کے مالک لو‎گ عموماً سست طبع واقع ہوتے ہیں۔ یہ رجحان محض اتفاقی نہیں، بلکہ سستی کے تخلیقی عمل سے گہرے تعلق کا مظہر ہے۔یہاں یہ واضح کر نا ضروری ہے کہ تخلیقی عمل سے مراد ہر وہ کام ہے جو کسی نئے تصور، خیال، ایجاد، سائنسی نظریئے، فن پارے، ادب اور فلسفے کی تخلیق کےلیے کیا جائے۔ سستی کا تخلیقی عمل میں ایک نہایت مثبت کردار ہے، جو اگر سمجھ میں آجائے تو ایک کارگر حکمت عملی کے طور پر اختیار کیا جاسکتا ہے۔ حادیث میں اس سورت کی بہت فضیلتیں وارد ہوئی ہیں ،ان میں سے تین اَحادیث اور ایک وظیفہ یہاں درج ذیل ہے۔

(۱) حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے،نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ”کیا تم میں سے کوئی اس سے عاجز ہے کہ وہ رات میں قرآن مجید کا تہائی حصہ پڑھ لے؟صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْکو یہ بات مشکل معلوم ہوئی اور انہوں نے عرض کی: یا رسولَ اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ، ہم میں سے کون اس کی طاقت رکھتا۔ہے؟آپ صَلَّی اللّٰہُ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا”سورۂ اخلاص تہائی قرآن کے برابر ہے۔بخاری، کتاب فضائل القرآن، باب فضل قل ہو اللّٰہ احد،۳​۴۰۷، الحدیث: ۵۰۱۵)(۲) حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں :حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَنے ایک شخص کو ایک لشکر میں روانہ کیا،

وہ اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے تو (سورۂ فاتحہ کے ساتھ سورت ملانے کے بعد)سورۂ اخلاص پڑھتے تھے۔جب لشکر واپس آیا تو لوگوں نے نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ سے یہ بات ذکر کی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ان سے ارشاد فرمایا: ”اس سے پوچھو کہ تم ایسا کیوں کرتے ہو؟جب لوگوں نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا:یہ سورت رحمن کی صفت ہے اس وجہ سے میں اسے پڑھنا پسند کرتا ہوں۔تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا”اسے بتا دو کہ اللّٰہ تعالیٰ اس سے محبت فرماتا ہے۔( بخاری، کتاب التّوحید، باب ماجاء فی دعاء النّبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم… الخ، ۴​۵۳۱، الحدیث: ۷۳۷۵)(۳) …حضرت انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،ایک شخص نے سیّدِ عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ سے عرض کی کہ

مجھے اس سورت سے بہت محبت ہے۔ارشاد فرمایا” اس کی محبت تجھے جنت میں داخل کردے گی۔( ترمذی، کتاب فضائل القرآن، باب ماجاء فی سورۃ الاخلاص، ۴​۴۱۳، الحدیث: ۲۹۱۰)(۴) …تفسیر صاوی میں لکھا ہے کہ جو شخص گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرے اور اگر گھر خالی ہو تو حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کو سلام کرے اور ایک بار قُلْ هُوَ اللّٰهُپڑھ لیا کرے تو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّفقرو فاقہ سے محفوظ رہے گا (صاوی، سورۃ الاخلاص، ۶​۲۴۵۰، ملخصاً) اور یہ بہت مُجَرّب عمل ہےـ

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!