غلافِ کعبہ تیار کرنے والی 3 خوش قسمت خواتین کون ہیں؟ یہ اہم دلچسپ معلومات آپ کو ضرور معلوم ہونی چاہئے

کائنات نیوز! غلافِ کعبہ بنانے کی تیاری کو بہت اہم اور باعث شرف کام قرار دیا جاتا ہے جس کے لیے باقاعدہ طور پر خصوصی تقریب کا انعقاد بھرپور اسلامی طریقے سے کیا جاتا ہے۔غلاف کعبہ کی تیاری کو انتہائی سعادت کی بات سمجھا جاتا ہے، اب ایک خصوصی شہر میں غلاف کعبہ تیار کیا جاتا ہے لیکن تاریخ میں اس مقدس سعادت حاصل کرنے کے مختلف طریقے تھے۔ زمانہ جاہلیت میں بھی لوگ غلاف کعبہ کی تیاری کو سعادت سمجھتے تھے۔

اس وقت ایک شخص غلاف کعبہ کی تیاری کی سکت نہیں رکھتا تھااس لیے کئی کئی لوگمختلف قسم کے غلاف تیار کرتے اور قریش کو جو غلاف سب سے زیادہ پسند آتا وہ اسے خرید لیا کرتے تھے۔ قبل از اسلام یمن کے ایک تاجر ابو ربیعہ بن المغیرہ المخزومی نے قریش کے سامنے پیش کش کی کہ وہ اکیلا ہی غلاف کعبہ تیار کرے گا۔ قریش نے اس کی پیش کش قبول کرلی۔ وہ کئی سال تک غلاف بنا کر قریش کو فروخت کرتا، ظہور اسلام سے تھوڑا عرصہ قبل وہ خالق حقیقی سے جا ملا۔اب آپ سب بھی یہ بات جاننے کے لیے انتظار میں ہوں گے کہ وہ 3 خوش قسمت عورتیں کون تھیں جنہیں کعبہ شریف کا غلاف تبدیل کرنے کا شرف حاصل ہوا۔العربیہ ویب سائٹ کے مطابق تاریخ کی کتابوں میں 3 ایسی خواتین کا تذکرہ بھی ملتا ہے جنہوں نے غلاف کعبہ تیار کیا تھا۔

ان میں سے النوار بنت مالک پہلی مشہور خاتون ہیں جنہوں نے غلاف کعبہ تیار کیا تھا۔ وہ صحابی رسول حضرت زید? بن ثابت کی والدہ تھیں۔ ایک دفعہ انہوں نے کہا کہ زید کی پیدائش سے قبل میں جب امید سے تھی تومیرے ذہن میں غلاف کعبہ کی تیاری کا خیال پیدا ہوا۔ میں نے عربوں سے سن رکھا تھا کہ غلاف کعبہ کی تیاری بہت بڑے اعزاز اور شرف کا کام ہے۔اسلام کی آمد سے پہلے غلافِ کعبہ تیارکرنے والی خواتین میں ایک نام نتیلہ بنت جناب ام عباس بن عبدالمطلب کا بھی ملتا ہے۔ انہوں نے ریشم سے غلاف کعبہ کی متعدد اقسام تیار کیں۔تاریخی مصادر سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور علیہ الصلوٰة والسلام کے چچا عباس بن عبدالمطب چھوٹی عمر میں گم ہوگئے تو ان کی والدہ نے یہ نذرمانی کہ اگر ان کا صاحبزادہ مل گیا تو

وہ غلاف کعبہ تیار کریں گی ۔ جب حضرت عباس مل گئے تو ان کی والدہ نے غلاف کعبہ بنانے کی نذر پوری۔نتیلہ آخری خاتون تھیں جنہوں نے قریباً 1500 سال قبل غلاف کعبہ تیار کیا۔بعد ازاں یہ شرف اہل قریش کے پاس ہی رہا اور کسی اور خاتون کا غلاف کعبہ کی تیاری میں کوئی کردار نہیں ملتا۔

ہر جاندار کو پانی کی ضرورت اولین طور پر ہوتی ہے، مچھلی میں یہ معاملہ جسم کے اندر اور باہر کے ماحول کے مطابق ہوتا ہے۔پیاس کا وہ تصور جو ہمارے یہاں ہے وہ ہر جاندار میں اس طرح نہیں پایا جاتا، ماحول کا عمل دخل ایک لازمی چیز ہے۔تازہ پانی میں رہنے والی مچھلی کا اندرونی ماحول اور جسم کا درجہ حرارت اور کیمیکل ری ایکشن باہر کے پانی سے زیادہ نمکیات کا حامل ہوتا ہے اس کیفیت کو ہائپر ٹونیسیٹی کہا جاتا ہے۔چنانچہ ارتکاز کے اس فرق کو ختم کرنے کے لیے مچھلی کی جلد سے پانی خود بخود جسم کے اندر جذب ہونا شروع ہوتا ہے اور جسم میں پانی کی زیادتی ہو جاتی ہے۔پانی کی اس زیادتی کو ختم کرنے کے لیے تازہ پانی کی مچھلیاں بہت بڑی مقدار میں پانی خارج کرتی ہیں۔

اس کے بر عکس سمندر کی مچھلیوں کا اندرونی ماحول باہر کے ماحول سے کم نمکین ہوتا ہے، اسے ہائپوٹانک ماحول کہا جاتا ہے۔ایسی صورتحال میں زیادہ امکانات یہ ہوتے ہیں کہ مچھلی کے اندر کا پانی باہر ڈفیوڑ ہونا شروع ہوجائے، اس وجہ سے بہت بڑی مقدار میں سمندری مچھلیاں پانی پیتی ہیں۔بہت سی مچھلیوں میں نمک کے غدود بھی پائے جاتے ہیں جو کہ پانی میں نمک کی زیادتی کو خارج کرکے آئنز کو منتظم کرنے کا کام کرتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!