صبح و شام صرف دس بار سورۃ اخلاص پڑھ لیں قسمت کا ستارہ چمک جا ئے گا سالوں سے خالی جھولی بھی بھر جا ئے گی

سورۃ اخلاص

کائنات نیوز ! نہ کامیابی حتمی ہوتی ہے۔ اور نہ ناکامی ، بلکہ اصل چیز کوشش جاری رکھنے کا حوصلہ ہوتاہے۔ ساتھ ملنا ایک آغاز ہے۔ ساتھ رہنا پیش رفت ہے۔ اور ساتھ مل کر کام کرنا کامیابی ہے۔ ہمیشہ اپنے آپ بن وہ ایک ایسا عمل ہے جو سورت اخلاص کے ساتھ خاص ہے۔ اس کو صرف اور صرف دن اور رات میں پڑھیں گے۔ اس کو دس مرتبہ پڑھنا ہے۔ اس کے کیا فوائدحاصل ہوں گے۔ انشاءاللہ مکمل طور پر احادیث کی رو سے ذکر کریں گے۔ کیونکہ اس سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ہے۔ کہ ہمیں جو دنیا اور آخرت دونوں کے فوائد حاصل ہوجائیں ۔حاجت ہو تو پوری ہوجائے ۔

کوئی پریشانی ہو تو پوری ہوجائے ۔ کس طرح سے پڑھیں گے اور کیا طریقہ کار ہے۔ اس کو مکمل طور پر ذکر کریں گے ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ کا ارشاد مبارک ہے۔ کہ آپ ﷺ نے فرمایا سب جمع ہوجائیں ۔تمہیں ایک تہائی قرآن سکھاؤں گا۔ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جمع ہوئے تو آپ ﷺ تشریف لائے ۔ اور “قل ھو اللہ ” پڑھی اور فرمایا: یہ سورت ایک تہائی یعنی تیسرا قرآن پڑھنے کے برابر ہے۔ ایک شخص حضرت محمد ﷺ کی خد مت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے اس سورہ سے بڑی محبت ہے۔تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا: کہ اس کی محبت تمہیں جنت میں۔آپ ﷺ نے فرمایا: جو شخص سونے کا ارادہ سے بستر پر لوٹے اور دائیں کڑوٹ لیٹ کر “قل ھواللہ ” پڑھے تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اے میرے بندے ! تو اپنی دائیں جانب سے جنت میں چلا جا۔سورت اخلا ص کے بے حد خواص ہیں۔آپ کو اس کا وظیفہ بتادیتے ہیں۔

اور اس کے بعد اس کے مکمل فوائد بیان کریں گے ۔ آپ نے یہ عمل اس طرح کرنا ہے کہ آپ نے کسی بھی وقت بیٹھ کر “سورت اخلاص” کو اس نیت کے ساتھ پڑھنا ہے کہ نبی کریمﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ : جو بھی اس کو پڑھے گا اللہ تعالیٰ اس کو ہرقسم کے غیرحاصل کروائیں گے۔ہرقسم کے شرسے محفوظ فرمائیں گے۔ آپ نے اول وآخر تین تین مرتبہ درود پڑھنے کے بعد دس مرتبہ “سورت اخلاص” پڑھنی ہے۔ رمضان المبارک میں کسی بھی وقت اس کو بیٹھ کر پڑھ سکتے ہیں۔ بہت ہی آسان سا عمل ہے صرف اور صرف سورت اخلا ص کو پڑھنے سے انشاءاللہ ہر حرف کے بدلے آپ کو دس نیکیاں ملیں گی۔ اکیاون اس میں حرف ہیں آپ کو پانچ سو دس نیکیاں ملیں گی۔دس بار پڑھنے سے پانچ ہزار ایک سو نیکیاں اور رمضان المبارک ستر گنا بڑھنے پر تین ستاون ہزار نیکیاں آپکے اکاؤنٹ میں جمع کردیں گے۔ انشاءاللہ ! اس کے بعدا للہ سے جو بھی حاجت طلب کریں گے ۔ اللہ آپ کو ضرور با ضرور عطا کردیں گے۔ سورت اخلاص ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔ صبح وشام پڑھنے سے اللہ تعالیٰ شرک اور فساد سے محفوظ رکھتے ہیں۔جو شخص اس کو پڑھے گا اللہ تعالیٰ اس کو ہر قسم کی خیر حاصل کروادیں گے۔

ہرقسم کے شر سے اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرمائیں گے۔ اگر بھوک میں پڑھے گا اللہ کےحکم سے زیر ہوجائے گا۔ جو پیاس میں پڑھے گا وہ سیراب ہوجائے گا۔ کسی پریشانی میں پڑھےگا۔ اللہ تعالیٰ اس کو ختم فرمادیں گے۔ کیونکہ قرآن کریم جو ہے اسکے حوالے سے فرمایا جاتا ہے کہ انسان ہر پریشانی کو ختم کرنے کے لیے قرآن کریم کافی ہے۔وہ بھی اعمال جو نبی کریمﷺ کے بتائے ہوئے ہوں۔ ت وبہ واستغفار کے ساتھ آپ جو بھی مقاصد کے لیے ، جو بھی مقصد حاصل کرنے کےلیے اللہ تعالیٰ اپنے اس کلام کی برکت سے اس میں بہت ہی برکت اور تاثیر پیدافرمادیں گے۔ انشاءاللہ جس مقصد کے لیے پڑھیں گے اللہ تعالیٰ آپ کا مطلوبہ مقصدحاصل کروا دیں گے کر رہیں ، اس کااظہار کریں خود پر یقین رکھیں ، باہر جاکر کسی کامیاب شخصیت کوڈھونڈ کر اسے نقل نہ کرے۔ صبر،استقامت اور محنت کامیابی کےلیے صفات کا ایک ناقابل شکست مجموعہ ہے۔ زندگی میں کامیابی کے لیے آپ کو دو چیزوں کی ضرورت ہے۔

محنت اور اعتماد۔ کامیابی چاہتے ہو تو اسے مقصد بناؤ لو جو آپ کو پسند ہے۔ اورجو یقین ہے بس وہ کرتے جاؤ اوریہ قدرتاًمل جائےگی۔ میں اپنی زندگی میں باربار اتنی مرتبہ ناکام ہوا اور یہی میری کامیابی کا اصل سبب ہے۔ میں کسی انسان کی کامیابی کو اس طرح نہیں جانچتا کہ وہ کتنے بلند مقام تک پہنچا لیکن بجائے اس کے کہ وہ پستی میں گر کر واپس کتنی بلندی پر پہنچا۔ آپ کی کامیابی کی قدروقیمت آپ کی قوت خواہش آپ کے خوابوں کی وسعت اور راستے میں آنے والی م ایوسی سے آپ کے نبٹنے کے طریقے پر منحصر ہے۔ ایک کامیاب آدمی وہ ہے جو اس کی طرف دوسروں کی پھینکی ہوئی اینٹوں سے ایک مضبوط بنیاد بنا سکتا ہے۔ ایک باپ نے بیٹے کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا دنیا کا طاقت ور انسان کو ن ہے ۔ بیٹے نے جواب دیا کہ وہ میں ہوں پھر باپ نے گن د ھوں سے ہاتھ ہٹا کر پوچھا کہ دنیا کاکمزور انسان کون ہے تو بیٹے نے جواب دیا کہ میں ہوں ۔ اب سمجھ سکو تو سمجھ جاؤ۔ مجھے لوگوں کو پڑھنا نہیں آتا لیکن ان پر اعتبار کرکے سبق ضرور مل جاتا ہے۔ کچھ دکھ امربیل جیسے ہوتے ہیں جو آپس میں یوں گڈ مڈ ہوجاتے ہیں کہ سمجھ ہی نہیں آتی کہ دل کس بات پر تڑپا ہے اور آنکھ کس بات پر بھر آئی ہے۔

عورت کی سب سے بڑی عبادت اپنی عزت کی حفاظت کرنا ہے۔ بیٹیوں کا اگر پاؤں پھسلے تو پورا گھرانہ منہ کے بل گرتا ہے۔ ایک بابا جی کہا کرتے تھے محبت عیب دیکھتی تو اللہ کبھی ہماری طرف نہ دیکھتا ۔ ناکامی کا منہ اکثر اس وقت دیکھنا پڑتا ہے جب ہم کامیابی کے حصول کےلیے اللہ کے اصول توڑ دیتے ہیں۔ غ صہ ایسی آندھی ہے جو دماغ کا چراغ گل کردیتی ہے ۔ ہمارا گھر چاہے کتنا ہی بڑا ہو ، کپڑے کتنے ہی مہنگے اور خوبصورت ہوں ہم کتنے ہی امیر ہوں لیکن ہم سب کی ق بریں ایک جیسی ہوں گی۔ کبھی کبھی میٹھی گفتگو کے لوگ آپ کو عزت نہیں دھ وکا دے رہے ہوتے ہیں۔ انسان آج تک ایساکچرادان نہیں بنا سکا جس میں اپنی نفرتیں ، عدواتیں ، تعصب اورجہالت پھینک سکے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!