نہانے سے پہلے امام جعفرصادقؑ کا یہ فرمان سن لیں

نہانے سے پہلے

کائنات نیوز ! امام جعفر صادق ؑ نے فرمایا کہ : ٹھنڈے پانی سے کبھی مت نہاؤ۔ کیونکہ انسا ن کے جسم کو ٹھنڈا پانی ضعیف بنادیتاہے۔ پر جب گرم پانی سے نہاؤ۔ توٹھنڈے پانی سے پاؤں ضرور دھولینا۔ کیونکہ یہ عمل انسان کو بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ یادرکھنا میں نے اپنا بابا انہوں نے اپنا بابا ، انہوں نے اپنا بابا اور انہوں نے اللہ کے رسول اللہﷺ سے سنا کہ جو انسان نیم گرم پانی سے نہاتا ہے ۔ اللہ اس کے چہرے پر اپنا نور برساتا ہے۔ اوریوں وہ جسمانی وروحانی امراض سے دور رہتاہے۔ اور جب بھی نہا لو تو اپنے جسم کو صیحح طرح سے خشک کیا کرو۔

کیونکہ جو انسان جسم کو خشک کیے بغیر لباس سے بے تن کرتاہے تو بیماریاں اس کے جسم کی طرف بڑھنے لگتی ہیں۔ اور یوں انسان وقت سے پہلے ضعیف اور بیمار ہونے لگتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم ﷺ نے ایک شخص کے ہاتھ میں سو نے کی انگوٹھی دیکھی ۔ آپ ﷺ نے اس کو اتارکر پھینک دیا اور فر مایا تم میں سے کو ئی شخص آگ کے انگا رہ کو اپنے ہاتھ میں لینے کا ارادہ کیوں کر تاہے ؟ رسول اکر م ﷺ کے تشریف لے جانے کے بعد اس شخص سے کہا گیا جاؤ اپنی انگو ٹھی اٹھالو اور اس سے نفع حاصل کرو ۔اس نے کہا اللہ کی قسم جس چیز کورسول اکر م ﷺ نے (نا راضگی کی صورت میں ) پھینک دیا ہوا اس کو میں کبھی بھی نہیں اٹھاؤں گا۔حضرت ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جہنمیوں کی 2 ایسی قسمیں ہیں جن سے بد بخت میں نے کسی کو نہیں پایا ۔ایک وہ لوگ ہیں جن کے بیلوں کی دم کی طرح کوڑے ہیں

جن سے وہ لو گوں کو مارتے ہیں ۔ دوسری وہ عورتیں جو لباس پہننے کے باوجود عریاں ہو نگی ۔ وہ راہ حق سے ہٹانے والی اور خود بھی ہٹی ہوئی ہو نگی ان کے سر بختی اونٹوں کی طرح ایک طرف جھکے ہوئے ہو ں گے۔ وہ نہ تو جنت میں داخل ہو نگی اور نہ ہی جنت کی خو شبو پائیں گی جب کہ جنت کی خو شبو اتنی اتنی ( بہت زیادہ ) مسا فت سے آتی ہے ۔حضرت عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں کہ جب حروی ( خوارج کا ایک گروہ ) کا فتنہ ظاہر ہوا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس میں آیا پس انہوں نے ( علیؓ ) نے کہا .ان لو گوں کے پاس جاؤ۔ پس میں نے جس قدر ممکن تھا یمنی جو ڑوں میں سے بہترین جو ڑا زیب تن کیا ۔ ( ابوز میل بیا ن کر تے ہیں کہ ابن عباسؓ خوبصورت اور حسین و جمیل تھے ) ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں میں ان ( حرو یوں ) کے پاس گیا تو انہوں نے مجھے خوش آمدید کہتے ہو ئے کہا اے ابن عباس ! یہ جوڑا کیسا ہے ؟انہوں( ابن عباسؓ ) نے کہا تم مجھ پر کیا عیب لگاتے ہو ؟میں نے تو رسول اللہ ﷺ کو بہترین جو ڑا زیب تن کئے ہو ئے دیکھا ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!