حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کی نمازجنازہ کیوں نہیں پڑھائی گئی؟

حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ

کائنات نیوز! حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی زوجہ تھیں۔ آپ کا حضرت خدیجہ سے محبت کا یہ عالم تھا کہ ان کی زندگی کے دوران آپ نے دوسرا کوئی نکاح نہیں کیا تھا۔ آپ حضرت خدیجہ کے بارے میں فرماتے ہیں! ”کہ ان سے بہتر مجھے کوئی بیوی نہیں ملی۔” کہ انہوں نے ایمان لا کر اس وقت میرا ساتھ دیا جب کفار نے مجھ پر ظلم و ستم کی حد کر دی تھی۔

انہوں نے اس وقت میری مالی مدد کی جب دوسرے لوگوں نےمجھے اس سے محروم کر رکھا تھا اس کے علاوہ ان کے بدن سے مجھے اللہ تعالی نے اولاد کی نعمت سے سرفراز کیا۔ جب کہ میری کسی دوسری بیوی سے میری کوئی اولاد نہیہوئی۔ بعد میں مدنی حیات مبارکہ میں ایک اور صاحبزادے سیدنا ابراہیم پیدا ہوئے تھے جو کہ ماریہ رضی اللہ تعالی عنہا سے تھے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بے پناہ محبت تھی۔ 10 رمضان المبارک ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کا یوم وفات ہے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کی نماز جنازہ نہیں پڑھائی گئی تھی کیونکہ اس وقت نماز جنازہ سمیت پانچ وقت کی نماز بھی فرض نہیں ہوئی تھی۔ بالکل اسی طرح رمضان کا مہینہ ہونے کے باوجود کوئی فرد روزے سے بھی

نہ تھا کیونکہ اس وقت روزے بھی فرض نہیں ہوئے تھے۔ اسی سال حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب چچا جناب ابو طالب کی بھی رحلت ہوئی تھی۔ ان دوصدموں نے آپ کو بہت غمگین کردیا ۔اسی لیے اس سال کو عام الحزن یعنی غم کا سال کہا جاتا ہے۔ حضرت خدیجہ کی وفات مدینہ کی ہجرت اور نماز فرض ہونے سے پہلے اسی سال ہوئی تھی جب حضرت ابو طالب کی وفات ہوئی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں