الولی اللہ تعالی کے صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے اس کے فضائل جان کر آپ حیران رہ جائیں گے

فضائل

کائنات نیوز ! الولی کا معنی ہےمددگار اور مومنوں کو دوست رکھنے والا۔ قشیری کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی علامات میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جس بندہ کو دوست رکھتا ہے اسے ہمیشہ خیر و برکت بھلائی کی توفیق دیتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ بندہ اگر بتقاضائے بشریت کسی برائی کا ارادہ بھی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ارتکاب سے اسے بچاتا ہے اور اگر وہ ناگہاں اس برائی میں مبتلا ہو بھی جاتا ہے تو اسے اس میں مبتلا نہیں رہنے دیتا بلکہ جلد ہی توبہ و انابت کے ساتھ اس برائی سے نکال لیتا ہے۔

چنانچہ اسی لیے کہا گیا ہے کہ۔ ۔ اللہ تعالیٰ جب کسی کو دوست رکھتا ہے تو اس کو گناہ نقصان نہیں پہنچاتا۔ اور اگر طاعت و عبادت میں کوتاہی و قصور کی طرف اس کا میلان ہوتا ہے تو حق تعالیٰ اسے طاعت و عبادت میں مشغول ہونے ہی کی توفیق عطا فرماتا ہے اور یہی بات بندہ کی سعادت کی علامت قرار پاتی ہے جب کہ اس کا عکس بندہ کی شقاوت و سیاہ بختی کی علامت ہے نیز اللہ تعالیٰ کی دوستی کی ایک اور علامت اور اس کا اثر یہ بھی ہوتا ہے کہ حق تعالیٰ اپنے اولیا کے قلوب میں ایسے بندہ کی محبت جاگزیں کر دیتا ہے جس کی وجہ سے اولیاء اللہ اس بندہ سے کمال تعلق اور مہربانی سے پیش آتے ہیں۔ الولی کے بنیادی معنی ہیں کسی کے قریب اور نزدیک ہونا۔ خدا اوربندے کا تعلق باہمی رفاقت کا ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے یہ ایک دوسرے کے ولی قرار پاتے ہیں، لیکن اس رفاقت کے لئے ضروری ہے کہ انسان قوانینِ خداوندی کی اطاعت کرے۔

اس اعتبارسے، جب انسان کے متعلق یہ کہا جائے گا کہ اللہ کاولی ہے، تو اس سے مراد ہوگا کہ وہ قوانینِ خداوندی کا مطیع و فرمانبردار ہے، وہ خدا کے تخلیقی پروگرام میں خدا کا رفیق ہے۔ اورجب اللہ کے متعلق کہا جائے گا کہ وہ انسان کا ولی ہے تو اس سے مقصود یہ ہوگا کہ جو اس کے قوانین کی اطاعت کرتاہے وہ اس کا رفیق و مدد گار بن جاتاہے۔ اللّہ مومنین کا ولی/ رفیق ہے اور اُن کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لاتا ہے- اس جہت سے کہ خدا کے قوانین کی اطاعت کی جاتی ہے۔ ولایت کے معنی غلبہ واقتدار ہے۔ اس کے معنی حکومت وسطوت اور محافظت و سرپرستی بھی ہوتے ہیں۔ لیکن جب انسانوں کے متعلق کہا جائے گا کہ وہ ایک دوسرے کے ولی ہیں، تو اس سے مفہوم برابر کی رفاقت اور دوستداری کے ہوں گے، مثلاً ”مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست اور مددگار ہیں”۔ قوانینِ خداوندی کی اطاعت سے (جو قرآن کے اندر محفوظ ہیں) انسانی ذات کی نشو ونماہوتی ہے، جس کے معنی یہ ہیں کہ انسان(عَلیٰ حدِ بشریت) صفاتِ خداوندی کا مظہر بنتا چلا جاتا ہے۔ اس طرح خدا، بندے کا ولی اور بندہ خدا کاولی بن جاتا ہے اور یہی خدا اور بندے کا صحیح تعلق ہے ۔ اس قسم کے افراد کے مجموعہ سے، جو امت متشکل ہوتی ہے، وہ اولیاء کی جماعت کہلاتی ہے۔ وہ دنیا میں جس کی سرپرست ومحافظ بن جاتی ہے، وہ ہر قسم کے خطرات سے محفوظ ومامون ہوجاتاہے۔

یہ حفاظت اس نظامِ خداوندی کا لازمی نتیجہ ہوتی ہے، جو جماعتِ مومنین کے ہاتھوں متشکل ہوتاہے۔ ولی کا لفظ قرآن کریم میں متعدد جگہ پر استعمال ہوا ہے سورہ مائدہ کی آیت ۵۵ میں ارشاد الٰہی ہورہا ہے: ” “، “اے ایمان والو! تمہارا حاکم و سرپرست اللہ ہے۔ اس کا رسول ہے اور وہ صاحبان ایمان ہیں۔ جو نماز پڑھتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں”۔ لفظ “ولیّ” اور “اولیاء” ستّر بار کے قریب قرآن کریم میں مختلف معانی میں استعمال ہوئے ہیں۔ ۱۔ بعض آیات میں “مددگار” اور “ناصر” کے معنی میں استعمال ہوا ہے، جیسے سورہ بقرہ کی آیت ۱۰۷ میں ارشاد الٰہی ہے: “”، “اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی سرپرست اور مددگار نہیں ہے”۔ ۲۔ “ولیّ” بعض آیات میں “معبود” کے معنی میں ہے، جیسے سورہ بقرہ کی آیت ۲۵۷ میں: ، “اللہ ان لوگوں کا سرپرست ہے جو ایمان لائے… اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ان کے سرپرست طاغوت (شیطان اور باطل کی قوتیں) ہیں”۔ “ولیّ” اس آیت میں، “معبود” کے معنی میں ہے، مومنین کا معبود اللہ ہے اور کفار کے معبود طاغوت، شیاطین اور ان کی نفسانی خواہش ہے۔ ۳۔ “ولیّ” قرآن مجید میں “ہادی” اور “راہنما” کے معنی میں بھی آیا ہے، سورہ کہف کی آیت ۱۷ میں ارشاد الٰہI: “، “اور جسے وہ گمراہی میں چھوڑ دے تو تم اس کے لئے کوئی یار و مددگار اور راہنما نہیں پاؤگے”۔ ۴۔ بہت ساری آیات جن میں لفظ “ولیّ” آیا ہے، ان میں “ولیّ” سرپرست اور صاحبِ اختیار کے معنی میں ہے،

جیسے سورہ شوری کی آیت ۲۸ میں ارشاد الٰہی ہے: اور وہ مددگار قابل تعریف ہے” البتہ اس آیت میں ولایت سے مراد، تکوینی ولایت ہے۔ اور جیسے سورہ اسراء کی آیت ۳۳ میں بھی “ولیّ”، سرپرست اور صاحبِ اختیار کے معنی میں ہے: “اور جو شخص ناحق قتل کیا جائے تو ہم نے اس کے وارث کو (قصاص کا) اختیار دے دیا ہے”۔ اس آیت میں تشریعی ولایت مراد ہے۔ “ولیّ” اس آیت میں سرپرست اور صاحبِ اختیار کے معنی میں استعمال ہوا ہے، کیونکہ قصاص کا حق مقتول کے دوست کے لئے ثابت نہیں ہے، بلکہ اس کے وارث اور ولیّ کے لئے ثابت ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!