انجیر کے اندر موجود یہ ننھے منھے دانے زبان کے نیچے رکھ لیں! 10منٹ بعد ایسا زبردست فائدہ ملے گا کہ خود میں طاقت کے خزانے ابلتے محسوس ہونگے

انجیر

کائنات نیوز! انجیر کے اندر موجود یہ ننھے منھے دانے زبان کے نیچے رکھ لیں! 10منٹ بعد ایسا زبردست فائدہ ملے گا کہ خود میں طاقت کے خزانے ابلتے محسوس ہونگے انجیر کو جنت کا پھل کہا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالی نے انجیر کی قسم یا د فرمائی ہے کہ قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی اور طورسینا کی ( سورہ التین)۔ یہ کمزور اور دبلے لوگوں کے لئے بیش بہا نعمت ہے ۔

انجیر جسم کو فربہ اور سڈول بناتا ہے۔ چہرے کو سرخ و سفید رنگت عطاکرتا ہے ۔ انجیر کا شمارعام اور مشہور پھلوں میں ہوتا ہے۔ پھگوڑی انجیر کو بنگالی میں آنجیر ، عربی میں تین اور انگلش میں فِگ ، یمنی میں بلس ، سنسکرت ، ہندی ، مرہٹی اور گجراتی میں انجیر اور پنجابی میں ہنجیر کہتے ہیں۔ اس کا نباتاتی نام فیک کیریکا ہے۔ عام پھلوں میں یہ سب سے نازک پھل ہے اور پکنے کے بعد خود بخودہی گرجاتا ہے۔ اور دوسرے دن تک محفوظ کرنا بھی ممکن نہیں ہوتا۔ فریج میں رکھنے سے یہ شام تک پھٹ جاتا ہے۔ اس کے استعمال کی بہترین صورت اسے خشک کرنا ہے۔ اسے خشک کرنے کے دوران جراثیم سے پاک کرنے کے لئے گندھک کی دھونی دی جاتی ہے اور آخر میں نمک کے پانی میں ڈبوتے ہیں تاکہ

سوکھنے کے بعد نرم و ملائم انجیر کھانے میں خوش ذائقہ ہو۔ اس لئے ہر عمر کے لوگوں میں اسے پسند کیا جاتا ہے۔ عرب ممالک میں خاص طور پر اسے پسند کیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں بھی بکثرت دستیاب ہے اور اسے ڈوری میں ہار کی شکل میں پروکرمارکیٹ میں لاتے ہیں۔ یہ بنیادی طور پر مشرقی وسطی اور ایشیائے کو چک کاپھل ہے۔ اگرچہ یہ برصغیر پاک و ہند میں بھی پایا جاتا ہے۔ مگر اس علاقے میں مسلمانوں کی آمد سے پہلے اس کا سراغ نہیں ملتا۔ اس لئے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ عرب سے آنے والے مسلمان اطباء یا ایشیائے کو چک سے منگول اور مغل اسے یہاں لائے۔ انجیر کے اندر پروٹین ، معدنی اجزاء شکر ، کیلشیم ، فاسفورس پائے جاتے ہیں ۔

دونوں انجیر یعنی خشک اور تر میں وٹامن اے اور سی کافی مقدار میں ہوتے ہیں۔ وٹامن بی اور ڈی قلیل مقدار میں ہوتے ہیں ۔ ان اجزاء کے پیش نظر انجیر ایک مفید غذائی دوا کی حیثیت رکھتا ہے اس لئے عام کمزوری اور بخار میں اس کا استعمال اچھے نتائج کا حامل ہوگا۔ انجیر کو بطور میوہ بھی کھایا جاتا ہے اور بطور دوا بھی استعمال کیا جاتاہے۔ یہ قابل ہضم ہے اور فضلات کو خارج کرتا ہے ۔ مواد کو باہر نکال کر شدت حرارت میں کمی کرتا ہے۔ جگر اور تلی کے سدوں کو کھولتاہے ۔ انجیر کی بہترین قسم سفید ہے۔ یہ گردہ اور مثانہ سے پتھری کو تحلیل کرکے نکال دیتا ہے۔ زہر کے مضر اثرات سے بچاتا ہے۔ انجیر کو مغر بادام اور اخروٹ کے ساتھ ملا کر استعمال کریں تو

یہ خطرناک زہروں سے محفوظ رکھتا ہے اگر بخار کی حالت میں مریض کا منہ بار بار خشک ہوجاتاہوتو اس کا گود ہ منہ میں رکھنے سے یہ تکلیف رفع ہو جاتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!