خبردار،ہوشیار،بارش بھی نہیں ہوگی اوربادل بھی غائب ہوجائیں گے، اگلی صدی میں ہماری دنیا کیسی ہوگی؟

کائنات نیوز! جب سے انسان نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں قدم رکھا ہے تب سے اب تک روزانہ ہی اتنی تیزی سے تبدیلیاں ہورہی ہیں کہ آنے والے کل میں آج کے دور کی بہت سی چیزیں ختم ہوچکی ہوں گی۔ دور کیوں جائیں بس ہمارے بچپن کی ہی بات ہے جب وی سی آر پر فلمیں دیکھی جاتی تھیں لیکن آج کے بچے وی سی آر سے قطعی ناواقف ہیں اسی طرح مستقبل میں دنیا کس حد تک بدل چکی ہوگی

اس کا ہم تصور بھی نہیں کرسکتے۔ لیکن ماحول اور ٹیکنالوجی پر نظر رکھتے ہوئے ہم نے یہ اندازہ لگانے کی کوشش کی ہے کہ 2100 تک دنیا کا نقشہ کس حد تک تبدیل ہوچکا ہوگا۔ تو آئیے آپ کو بھی مستقبل کی سیر پر لے چلتے ہیں سفر بہت تیزی سے کرسکیں گے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لئے گاڑیاں اور ہوائی جہاز ہی نہیں بلکہ اڑنے والی گاڑیاں بھی وجود میں آچکی ہیں۔ آنے والے دنوں میں سفر کو تیز کرنے کے لئے مذید کوششیں کی جارہی ہیں اور شہروں کے اندر سرنگ کے زریعے سفر کرنے کی تیاریاں جاری ہیں جن سے دنوں میں مکمّل ہونے والا سفر چند گھنٹوں میں ہوسکے گا جنگلات صرف قصے کہانیوں میں رہ جائیں گے انسان ابھی تک دنیا کے آدھے جنگلات تباہ کرچکا ہے۔

اسی طرح جنگلات ختم ہوتے رہے تو 2100 تک زمین سے سارے جنگلات کے ساتھ وہ جانور بھی ناپید ہوجائیں گے جو جنگل میں رہتے ہیں۔ یعنی شیر، چیتا اور بھالو وغیرہ کی تصاویر صرف کتابوں میں رہ جائیں گی لوگ بوڑھے ہونا بند ہوجائیں گے ‍گلوبل وارمنگ کو کم کرنے کے لئے فوری اقدامات نہیں کیے گئے تو جنگلات کے علاوہ سمندر، دریا اور جھیل یہاں تک کے انسانی رہائش کا علاقہ بھی بنجر اور صحرا میں تبدیل ہوجائے گا جہاں نہ پانی ہوگا اور نہ ہی پودے ۔ بارشیں نہیں ہوں گی اور زمین کا درجہ حرارت نہ قابل برداشت حد تک بڑھ چکا ہوگا بادل غائب ہوجائیں گے دھوپ چھاؤں سے لطف اندوز ہونا بھی نعمت ہے لیکن آنے والی صدیوں تک انسان اپنی تباہ کاریوں کی وجہ سے ان نعمتوں سے بھی محروم ہوجائے گا۔ زمین پر پانی نہیں ہوگا تو آبی بخارات نہیں بنیں گے اور نہ ہی بادل۔

زمین کا بڑا حصہ صحرا بن چکا ہوگا ‍گلوبل وارمنگ کو کم کرنے کے لئے فوری اقدامات نہیں کیے گئے تو جنگلات کے علاوہ سمندر، دریا اور جھیل یہاں تک کے انسانی رہائش کا علاقہ بھی بنجر اور صحرا میں تبدیل ہوجائے گا جہاں نہ پانی ہوگا اور نہ ہی پودے ۔ بارشیں نہیں ہوں گی اور زمین کا درجہ حرارت نہ قابل برداشت حد تک بڑھ چکا ہوگا

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!