حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فر ما یا :بیوی اپنے شوہر پر شک کیوں کر تی ہے،مزید جاننے کیلئے اس آڑٹیکل کو پڑھیں

بیوی

کائنات نیوز! کہتے ہیں کہ شک ایک ایسی بری چیز ہے کہ اس کی وجہ سے بعض اوقات شریک حیات سے خوش گوار تعلقات برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے اور بعض اوقات بچوں کا بندھن بھی اس تعلق کو جوڑے رکھنے کے لئے ناکافی ہوجاتا ہے لہٰذا میاں بیوی کو چاہئے کہ اپنا رشتہ مضبوط اور قائم رکھنے کے لئے شک کو اپنے بیچ میں نہ آنے دیں کیونکہ اس رشتے میں ایک مرتبہ شک کا بیج پیداہوگیاتو

پھر وہ میاں بیوی کے رشتے کو نہ صرف کمزور کرتا ہے بلکہ اس رشتے کو بعض اوقات ختم بھی کردیتا ہے جس کا نتیجہ علیحدگی کی صورت میں سامنے آتا ہے ۔اس تحریر میں حضرت علی ؓ کے فرمان کے مطابق یہ بتانے جارہے ہیں کہ میاں بیوی کے درمیان شک پیدا ہونے کی کیا وجوہات ہیں۔کسی دانشور نے کیاخوب کہا ہے کہ عورت کا اپنا کوئی گھر ہوتا ہی نہیں ہے جس گھر کو اپنا سمجھ کر بیٹھتی ہے اس گھر کا اصل مالک کوئی اور ہوتا ہے کہتے ہیں کہ عورت کی سب سے بڑی کمزوری سونا ہوتی ہےلیکن ہماری دانست میں عورت کی سب سے بڑی خواہش اور کمزور ی ہوتی ہے عورت چاہے جس طبقے سے ہو کتنی ہی تعلیم یافتہ ہو کتنی ہی مضبوط ہو مگر شادی کے بعد

اس کے شوہر کا رشتہ ہی اس کو معاشرے میں معتبر بناتا ہے عورت جب کسی کے نکاح میں آجائے تو اس کا مرتبہ بڑھ جاتا ہے اور اسے عزت بھی ملتی ہے یہی حقیقت ہے شوہر عورت کو صرف محبت ہی نہیں بلکہ تحفظ اور سائبان بھی دیتا ہے۔لہٰذا اسے اس گھر کی قدر کرنی چاہئے اور اپنے گھر کو یعنی میاں بیوی کے رشتے کو قائم رکھنے کے لئے عورت کو چاہئے کہ ایسی باتوں کا خاص خیال رکھے کہ جن باتوں کی وجہ سے اس رشتے می دراڑ پیدا ہو یا جن باتوں کی وجہ سے یہ رشتہ کمزور ہوسکتا ہو ۔ایسی ہی باتوں میں سے ایک چیز شک ہے یا د رہے کہ اگر میاں بیوی کے رشتے میں شک پیدا ہوجائےتو یہ رشتہ نہ صرف کمزور ہوجاتا ہے بلکہ بعض اوقات یہ شک اسقدر بڑھ جاتا ہے کہ میاں بیوی میں علیحدگی کی صورت پیدا ہوجاتی ہے ۔ک

ہتے ہیں کہ حضرت علی ؓ کے پاس ایک عورت آئی اور اپنے شوہر کی شکایت کرنے لگی کہ اس کا شوہر اس پر شک کرتا ہے تو حضرت علی ؓ نے اس عورت کے شوہر کو بلوایا اور اس سے فرمایا یاد رکھو شک کرنا رشتے کو اس طرح سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔جس طرح سے دیمک لکڑی کو کھوکھلا کر دیتی ہے اور ایک وقت آتا ہے کہ وہ لکڑی ٹوٹ کر گر جاتی ہے اسی طرح سے شک بھی رشتوں کوکمزور کرتا ہے اور ایک وقت آتا ہے کہ وہ رشتوں کو ختم کردیتا ہے اس لئے کوشش کرو کہ شک نہ کیا کرو اور پھر عورت سے مخاطب ہوکر یہ فرمانے لگے کہ اے عورت تم بھی یاد رکھو کہ شوہر کے ذہن میں شک پیدا ہونے کی مختلف وجوہات ہوتی ہیں اس لئے تم ایسے کاموں سے دور رہو

جو تمہارے شوہر کے دل میں شک پیدا کرنے والی ہوں۔ان وجوہات میں سب سے بڑی وجہ ہے جھوٹ بولنا یاد رہے کہ کوئی عورت اپنے شوہر سے باتیں چھپانے لگتی ہے۔اور بعد میں شوہر کو ان باتوں کے بارے پتہ چلتا ہے تو شوہر کو دکھ ہوتا ہے اور یوں اس کے دل و دماغ میں بیوی کے لئے شک پیدا ہوجاتا ہے دوسری وجہ کوئی ایسا حادثہ وغیرہ ہوسکتا ہے جس میں عورت نے اپنے شوہر سے بے وفائی کی ہو تو اس بے وفائی کی وجہ سے بھی شوہر کے دل میں شک پیدا ہوجاتا ہے اور ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہےکہ شوہر ذہنی کمزوری یا احساس کمتری کا شکار ہوتا ہو اور اس احساس کمتری کی وجہ سے وہ اپنی بیوی پر شک کرے اور آخر میں حضرت علی ؓ نے اس عورت اور اس کے شوہر کو یہ عمل بتایا کہ صبح شام سات سات مرتبہ سورہ فلق اور سورہ الناس پڑھ لیا کرو اس عمل سے انشاء اللہ شک کی بیماری دور ہوجائے گی

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!