ڈسپرین کی گولیاں، ایک ایسا کمال کا گھریلو نسخہ جوآپ کی بڑی سے بڑی مشکل کوآسان کردے گا

ڈسپرین کی گولیاں

کائنات نیوز ! اکثر خواتین کو ایکنی کا مسئلہ رہتا ہے اور ان کے چہرے دانوں سے بھرے ہوتے ہیں جو نہایت برے لگتے ہیں۔ پھر جب یہ دانے ختم ہوتے ہیں تو اس کے داغ آپ کے چہرے کو بدنما بنا دیتے ہیں۔ آج ہم آپ کے اس مسئلے کا ایک حل لائے ہیں جو کہ ان دانوں کو نہ صرف خشک کر دے گا

بلکہ دانوں کے ختم ہونے کے بعد اس کے داغ کو بھی کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ چاہے یہ دانے کسی قسم کے بھی ہوں ان میں پیپ والے دانے بھی شامل ہیں۔کے فوڈ کی رپورٹ کے مطابق جو نسخہ ہم آپ کو آج بتانے جارہے ہیں اس میں دراصل ڈسپرین کی گولیوں کا استعمال کرنا ہوگا جس میں (Salicylic acid) سیلیسیلک ایسڈ موجود ہوتا ہے جو کہ دانوں کو خشک کرتا ہے اور اسی وجہ سے ڈسپرین کا استعمال کیا جاتا ہے۔یہ اسکن ڈرائی کرتا ہے اگر ڈرائی اسکن والی خواتین اس کو لگائیں گی تو ان کی جلد مزید ڈرائی ہوکر خراب ہوجائے گی۔ ڈسپرین کی چند گولیاں لیں اور اس کو چور کر کے پاؤڈر بنالیں۔ پھر اس میں ایک چمچ نیم گرم پانی شامل کریں۔ اب یہ مکسچر لگانے کے لیے تیار ہے۔ چہرے کو دھولیں اور خشک کرلیں۔

پھر چہرے پر ڈسپرین کا مکسچر لگائیں اور دس سے پندرہ منٹ کے لیے لگا کر چھوڑ دیں۔ پھر اس کو نیم گرم پانی سے دھولیں۔ اب کوئی بھی لوشن لگالیں۔ اگر تو آپ اس کو چہرے پر فیس ماسک کی طرح لگاتی ہیں تاکہ کیل مہاسوں کو بھی کنٹرول کیا جا سکے تو اس کو آپ ہفتے میں ایک سے دو بار ہی استعمال کریں اور اگر یہ مکسچر صرف دانوں پر لگاتی ہیں تو دن میں ایک بار لگائیں جب تک دانہ خشک نہ ہوجائے

میں باپردہ اور پنج گانہ نمازی ہوں،میرے رشتے ایسے افراد کے آتے ہیں جو نماز تک نہیں پڑھتے ، کیا میں نماز نہ پڑھنے والے شخص سے شادی کر لوں ؟یا کسی دیندار شخص کے رشتے کا انتظا ر کروں

ایک دیندار خاتون نے پروگرام کے میزبان کو ایک سوال بھیجا جس میں اس خاتون نے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ میری عمر 30سال ہے،میں ایک باپردہ خاتون ہوں اور دین پر مکمل عمل کرنے کی کوشش کرتی ہوں، میں دیندار آدمی سے شادی کرنا چاہتی ہوں مگر میرے رشتے ایسے افراد کے آتے ہیں جو نماز تک نہیں پڑھتے، کیا میں نماز نہ پڑھنے والے شخص سے شادی کر لوں،یا کسی دیندار آدمی کے رشتے کا انتظار کروں۔نجی ٹی وی پروگرام میں خاتون کے سوال کا جواب دیتے ہوئے

جواب دیتے ہوئے پروگرام کے مہمان ایک مذہبی سکالر کا کہنا تھا کہ شادی کے حوالے سے چند اصولی چیزوں کو دیکھا جاتا ہے، جب بھی رشتہ آتا ہے تو اس میں دو تین چیزوں کو دیکھنا چاہئے، ایک چیز تو یہ دیکھنی چاہئے کہ اس شخص کی دینی حالت کیا ہے، شریعت میں دینداری سے مراد وہ شخص مکمل دیندار ہو جبکہ ہمارے ہاں دینداری سے مراد یہ لی جاتی کہ بندہ نماز پڑھتا ہو اور اس کا ظاہری شباہت اس کی دینی ہو، یہ چیز دیکھ لیں، دوسرے نمبر پر یہ دیکھیں کہ وہ بندہ اخلاق میں کیسا ہے، جس سے متعلق چھان بین کرنے سے معلوم ہو جائے گا، تیسرے نمبر پر یہ دیکھیں کہ وہ سماجی اور تمدنی اعتبار سے آپ کے جوڑ کا ہے یا نہیں۔ مذہبی سکالر نے خاتون کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا کوئی رشتہ ان کیلئے آتا ہے

کہ وہ سماجی اور تمدنی اعتبار سے اور اخلاقی لحاظ سے ان کیلئے مناسب ہے لیکن نماز اور دینی اعتبار سے اس کے اندر کوتاہی ہے تو اس کیلئےیہ خاتون یہ کام کر سکتی ہیں کہ شادی کے بعد اس شخص کو یہ نمازی بنا دیں۔حدیث شریف میں تو ایسی بیوی کی تعریف آئی ہے جو ایسا کرے ۔ حضور اکرمﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ خوش ہوتے ہیں ایسی عورت سے جو شوہر کو نماز کیلئے اٹھاتی ہے، اور اگر وہ نہیں اٹھتا یا کسل مندی کا مظاہرہ کرتا ہے تو بیوی اس کو جگانے کیلئے اس پر پانی کے چھینٹے ڈال دے،یعنی دین کے کاموں میں اپنے شوہر کی ممد و معاون بن جانا۔ اس میں کوئی حرج نہیں لیکن اس انتظار میں کہ میرے معیار کے مطابق کوئی شخص آئے گا اور خاتون اپنی عمر گزاردے جو کہ بالکل بھی مناسب نہیں۔

اگر آپ کو اس میں کمی محسوس ہوتی ہے اور وہ عبادت میں کمی رکھتا ہے تو خاتون اپنی کوشش سے اس کمی کو دور کرنے کی سعی کرے۔ مذہبی سکالر کا کہنا تھا کہ ظاہر ہےکہ اگر کوئی شخص کسی پردہ دار خاتون سے شادی کرے گا تو اس کے ذہن میں یہ بات ہو گی کہ یہ نمازی اور پردہ دار ہے ، تو جب یہ آئے گی تو یہ نماز پڑھنے کی تلقین کرے گی۔ اس کیلئے بہت اخلاق اور نرمی کی ضرورت ہے، ہمارے ہاں لوگ طعنے اورطنز کر کے نماز کی تلقین کرتے نظر آتے ہیںجبکہ دین کا اسلوب طعنہ و تشنیع یا طنز نہیں ہے ۔ ہمارے ہاں لوگ اسیوجہ سے بچیوں کے رشتے میں بہت تاخیر کر دیتے ہیں جبکہ رشتوں کی تاخیر دین میں پسند نہیں فرمائی گئی

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!