عورت کو طلاق کا حق کیوں نہیں

عورت کو طلاق

کائنات نیوز! ایک سوال پوچھنا ہے مگر ڈر لگتا ہے کہ آپ کوئی فتوی ہی نہ لگا دیں۔پوچھو پوچھو۔!! سوال پوچھنے پر کوئی فتوی نہیں۔یہ بتائیں کہ اسلام مرد کو طلاق کا حق دیتا ہے، عورت کو کیوں نہیں دیتا۔شریعت کا منشا یہ ہے کہ اچھی طرح ازدواجی زندگی گذاری جائے ؛لیکن اگر کبھی حالات نامساعد ہو جائیں اور زوجین کا اللہ رب العزت کے قائم کردہ حدود پر باقی رہنا دشوار ہوجائے

اور آئندہ نباہ کی کوئی صورت نہ بن سکے تو شوہر کو یہ حکم ہے کہ طلاق دے کر اچھے انداز میں بیوی کو اپنی زوجیت سے نکال دے تاکہ عورت آزاد ہوکر جہاں چاہے شادی کرسکے،شوہر کا طلاق دینے کے لیے لمبی رقم کا مطالبہ کرنا کسی بھی طرح درست نہیں ہے،شوہر کو طلاق کا اختیار اس لیے دیا تاکہ طلاق کم سے کم واقع ہوکیونکہ عورت جلدباز ہوتی ہے اور بسا اوقات بغیر سوچے کوئی فیصلہ کرلیتی ہے اور بعد میں اسے افسوس ہوتا ہے اس کے بالمقابل مرد نتیجے پر بھی غور کرتا ہے،اسی طرح خلع میں بھی عورت آزاد نہیں ہے بلکہ خلع کے صحیح ہونے کے لیے بھی شوہر کی رضامندی ضروری ہے ؛البتہ کبھی شوہر واقعی ظلم وزیادتی پر اتر آتا ہے نہ تو بیوی کو رکھ کر نان ونفقہ برداشت کرتاہے اور نہ ہی اسے آزاد کرتا ہے ایسی صورت میں حکم یہ ہے کہ بیوی اپنا معاملہ مقامی شرعی پنچایت میں لے جائےاگر شرعی پنجایت کے حضرات اپنے طور تحقیق کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچ جاتے ہیں

کہ واقعی شوہر متعنّت ہے تو ان کو نکاح کے فسخ کرنے کا اختیار ہوگا،لہذا صورت مسئولہ میں اگر شوہر طلاق کے لیے ایک خطیر رقم کا مطالبہ کرتا ہواور بیوی کو رکھ کر اس کے نان ونفقہ کا انتظام نہ کرتا ہو تو بیوی کو چاہیے کہ اپنے مسئلے کو مقامی شرعی پنچایت میں لے جاکر حل کرائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!