اگر بیوی چوری چھپے مانع حمل دوا كھائے تو اس کا کیا حکم ہے؟

اگر بیوی چوری

کائنات نیوز! سوال: ایک شخص ہے جس کی نیت ہے کہ وہ شریعت پر عمل کرے اور اس کی چار اولادیں ہوں اور وہ مزید اولاد کا طلب گار ہے مگر اس کی بیوی مزید بچہ پیدا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی ہے جب کہ بیوی میڈیکل طور پر فٹ ہے، بیوی کو کافی سمجھایا لیکن ماننے کو تیار نہیں، اس مسئلہ کا حل کیا ہے؟ اگر بیوی چوری چھپ کر حمل نہ ٹھہرنے کی گولیاں لیتی ہے تو اس کا کیا حکم ہے؟

اگر شوہر نے چوری چھپ کر چھٹی کے دن لیتے ہوئے پکڑ لیا تو اس کے ساتھ کیا معاملہ کرے؟ جواب :بچے پیدا کرنا آسان کام نہیں ہے، عورت کو بچے کے حوالہ سے مشکل ترین احوال سے گذرنا ہوتا ہے؛ اس لیے آپ بیوی کی ذہن سازی کرتے رہیں اور جب وہ ذہنی طور پر تیار ہوجائے تو پانچویں بچہ کی کوشش کریں۔وینبغي أن یکون سد المرأة فم رحمھا کما تفعلہ النساء لمنع الولد حراماً بغیر إذن الزوج قیاساً علی عزلہ بغیر إذنھا (البحر الرائق، کتاب النکاح، باب نکاح الرقیق، ۳،۳۴۹ط: مکتبة زکریا دیوبند)، قولہ: ’‘وینبغي أن یکون سد المرأة الخ“:نظر فیہ فی النھربأن لھا أن تعالج نفسھا في إسقاط الولد قبل إکمال الخلقة کما سیأتي بشرطہ فمنع سببہ بالجواز أحری، والفرق بین ھذا وبین کراھة العزل بغیر إذنھا لا یخفی علی متأمل (منحة الخالق علی البحر الرائق)،وإطلاقھم یفید عدم توقف جواز إسقاطھا قبل المدة المذکورة علی إذن الزوج (رد المحتار، کتاب النکاح، باب نکاح الرقیق، ۴: ۳۳۶، ط: مکتبة زکریا دیوبند) تنبیہ:

أخذ فی النھر من ھذا ومما قدمہ الشارح عن الخانیة والکمال أنہ یجوز لھا سد فم رحمھا کما تفعلہ النساء مخالفاًلما بحثہ فی البحر من أنہ ینبغي أن یکون حراماً بغیر إذن الزوج قیاساً علی عزلہ بغیر إذنھا، قلت: لکن فی البزازیة:أن لہ منع امرأتہ عن العزل اھ، نعم النظر إلی فساد الزمان یفید الجواز من الجانبین فما فی البحر مبني علی ما ھو أصل المذھب وما فی النھر علی ما قالہ المشایخ، واللہ الموفق (المصدر السابق)۔(۲):عورت کو شوہر کی اجازت کے بغیر مانع حمل گولیاں نہیں کھانی چاہیے، مناسب نہیں، نیز شوہر کو عورت پر حمل کے لیے جبر بھی نہیں کرنا چاہیے۔(۳): نرمی ومحبت کے ساتھ سمجھا بجھاکر کام لیا جائے، سختی سے گریز کیا جائے ۔ واضح رہے کہ خالق کائنات نے انسان کو اپنی حکمت کے ساتھ اچھے ڈھانچے میں ضرورت کی تمام چیزیں دیکر پیدا فرمایا ہے٬ اور انسانیت کی تخلیق کیلئے نکاح کو حلال اور پاکیزہ طریقہ تجویز فرمایا ہے٬ جوکہ انسانی نسب کے تحفظ اوربقاء کا ضامن ہے٬ اللہ رب العزت نے اولاد

کے حصول کے سلسلے میں بیویوں کو بمنزلہ کھیت قرار دیا اور ارشاد فرمایا:نِسَاؤكمْ حَرْثٌ لًَكُمْ فَأْتُوْا حَرْثَكُمْ أَنّٰى شِئْتُمْ ( البقرة: ٢٢٣)ترجمہ: “تمہاری عورتیں تمہاری کھیتی ہیں جس طرح چاہو ان کے پاس جاؤ” جس طرح کسی دوسرے کی کھیت میں کاشت کاری کرنا جائز نہیں٬ اسی طرح کسی اور عورت سے حصول اولاد کی کوشش کرنا بھی درست نہیں٬ چنانچہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:لا يحل لامرئ يؤمن بالله و اليوم الاخر ان يسقي ماءه زرع غيره (مشكوة ص ٢٩٠)ترجمہ:”جو شخص اللہ پر اور روزِ آخرت پر یقین رکھتا ہے٬ اس کے لیے حلال نہیں ہے کہ اپنا پانی دوسرے کے کھیت (اجنبی خاتون) میں ڈالے۔مذکورہ بالا نصوص اور اس قسم کے دیگر نصوص سے معلوم ہوتا کہ شریعت کی نظر میں نسلِ انسانی کی بقا اور حصولِ اولاد کا فطری طریقہ نکاح ہے٬ اور اپنی منکوحہ یا مملوکہ کے علاوہ کسی اور خاتون کے ذریعہ اولاد کے حصول کی کوشش کرنا٬ چاہے کسی بھی طریقے سے ہو٬ جائز نہیں ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!