بد نصیبی کی پہچان

بد نصیبی کی پہچان

کائنات نیوز! رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ چار چیزیں بدنصیبی کی پہچان ہیں ۔پہلے نمبر پر آنکھوں کا خشک ہونا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ کے خوف سے کسی انسان کے آنسو نہ ٹپکے۔ انسان کو ہر وقت استغفار کرتے رہنا چاہیے اور اللہ سے ڈرتے رہنا چاہیے۔ اس سے بڑی بدنصیبی کیا ہوگی جب انسان اللہ کے خوف سے اس کی آنکھوں سے آنسو نہ ٹپکیں۔

دوسرے نمبر پر ہے دل کا سخت ہونا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ کسی انسان کا دل آخرت کے لئے یا کسی انسان کے لئے نرم نہ ہو۔ یہ بھی بد نصیبی کی پہچان ہے ۔تیسرے نمبر پر ہے دنیا سے امید لگانا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ کسی انسان کو کسی انسان سے امید نہیں لگانی چاہیے۔ امیدیں صرف اللہ کی ذات لگانی چاہیے۔ جو لوگ انسانوں سے امید لگاتے ہیں وہ بھی بد نصیب کی پہچان ہے۔چوتھے نمبر پر ہے دنیاوی چیزوں کا لالچ کرنا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ جو لوگ دنیاداری کے لالچ میں پڑ جاتے ہیں وہ دین کو بھول جاتے ہیں۔ یہ عارضی دنیا ہے انسان کو چاہیے کہ دنیاوی چیزوں کا لالچ نہ کرے بلکہ دین کا لالچ کرے۔اللہ تعالی ہم تمام مسلمانوں کو نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یا رب العالمین

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!