جن خواتین کا بچہ ضائع ہوجاتا ہے یا پیدئش کے بعد مرجاتاہے،تو وہ حمل کے دوران یہ دو کام کرلیں

پیدئش

کائنات نیوز ! زیادہ سے زیادہ جدید شادی شدہ جوڑے بچوں کو بڑی ذمہ داری کے ساتھ فیصلہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں. آج تک، حمل کے لئے تیاری میں مختلف کورس موجود ہیں، جہاں آپ اپنے جسمانی اور ذہنی صحت کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ بچے کی ظہور کی منصوبہ بندی کر سکتے ہیں. تاہم، بہت سی جوڑوں کے لئے حمل غیر متوقع واقعہ ہے.

اس کے باوجود یہ تصور کس طرح ہوا ہے – غلطی سے یا منصوبہ بندی، ہر عورت کو جلد ہی جاننا چاہتی ہے کہ وہ حاملہ ہے یا نہیں.حمل کی موجودگی کا تعین مختلف بنیادوں پر ہوسکتا ہے. سب سے عام طریقہ حاملہ امتحان ہے. سب سے زیادہ ٹیسٹ تصور کے بعد پہلے دن سوال کا جواب دیتے ہیں. لیکن، بنیادی طور پر خواتین خواتین کو اس طریقہ کار کا سامنا کرتے ہیں جب وہ اپنے آپ کو مہینے میں تاخیر میں ڈھونڈتی ہیں. اگر ماہانہ نہیں ہوتا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ متوقع حمل کی مدت دو ہفتوں تک ہے. اس سلسلے میں، منصفانہ جنسی کے بہت سے نمائندے سوال میں دلچسپی رکھتی ہیں “حمل کے پہلے علامات کب ظاہر ہوتے ہیں

. جسم کی حساسیت اور انفرادی خصوصیات پر منحصر ہے، ایک عورت تصور کے بعد پہلے دن میں حاملہ حملوں کے کچھ علامات محسوس کرسکتے ہیں. طبیعیات ابتدائی حمل کے علامات کے دو گروہوں کی شناخت کرتے ہیں، جو ممکنہ اور ممکنہ طور پر کہا جاتا ہے.تصور کے بعد حاملہ علامات کی پہلی علامات ہیں. ان میں شامل ہیں:بڑھتی ہوئی نمائش اور ہلکے متلیپیٹ پریشانرواداری، موڈ کی تیز تبدیلی، رونے کی خواہش، تھکاوٹ؛نیلاوں کے پھولوں کی رنگا رنگی جگہوں کی ظاہری شکل اور رنگا رنگ.ان حملوں کے علامات تصور کے بعد پہلے دن میں ظاہر ہوسکتے ہیں. لیکن وہ بھی ایک عورت کے جسم میں دیگر تبدیلیوں کے ساتھ خود ظاہر کر سکتے ہیں.

اس وجہ سے ڈاکٹروں کو ان کی نفسیات کہتے ہیں: حیض میں تاخیر؛اکثر پیشاب کرنے کی کوشش کرتے ہیں؛ماں گریوں کی انگلیوں اور ان کی حساسیت میں اضافہ؛اندام نہانی خارج ہونے والے مادہ کی ظاہری شکل – یہ دشمنی اداروں میں بڑھتی ہوئی گردش کی وجہ سے ہے؛uterus کے سائز میں اضافہ – اس علامات صرف ایک نسائی ماہر کی تقرری پر تحقیق کی طرف سے مقرر کیا جا سکتا ہے؛37 ڈگری سے زیادہ بیسل درجہ حرارت میں اضافہ – بہت سے میں یہ حمل کا پہلا علامہ ہے. تصور کے بعد دو مس پیریڈز یقینی طور پر حمل ٹھہرنے کی سب سے بڑی اور واضح علامت ہے ۔ حمل ٹھہرنے کے کچھ د ن یا ایک ہفتے بعد جسم حمل سے متعلق اشارے دینے شروع کر دیتا ہے۔ لیکن کچھ عورتیں ان اشاروں کو محسو س کرنے میں ناکا م رہتی ہیں۔

بلا شبہ حمل چیک کرنے کا سب سے اچھا طریقہ ٹیسٹ ہی ہے۔ لیکن کچھ ایسی حمل علامات ہوتی ہیں۔ کہ آپ حاملہ ہیں۔ وہ علامات جانتے ہیں کہ وہ علامات کونسی کونسی ہیں۔ متلی یا الٹیاں آنا ایک عام سی علامت ہے ۔ جس سے صبح کی کمزور ی بھی کہاجاتا ہے۔ یہ حمل کی اہم علامت سمجھی جاتی ہے۔ اور ضروری نہیں کہ یہ صبح ہی ہو۔ بلکہ یہ دن میں کسی بھی وقت ہوسکتی ہے۔ اسی فیصد خواتین حمل کے ابتدائی دنوں سے ہی متلی کا شکا ر ہوجاتے ہیں۔ اپھارہ اور سختی کا احساس عام طور پر تجربہ شدہ علامات میں سے ایک ہے ۔ ہارمون کی بڑھتی ہوئی سطح کی وجہ سے آنتوں میں گیس پھس جاتی ہے۔ جو اپھارے کا باعث بنتی ہے۔ باربار پیشاب کا آنا اور پیشاب کی زیادتی حمل ٹھہرنے کی ایک اہم علامت ہے۔ گردے خ۔ون کو فلٹر کرنے کے لیے اوو ر ٹائم کام کرتے ہیں۔

جس کی وجہ سے باربار پیشاب کرنے کی خواہش ہوتی رہتی ہے۔ مزاج میں باربار تبدیلی کا ہونا بھی حمل کی ایک علامت سمجھی جاتی ہے۔ آپ کو چھوٹی چھوٹی باتو ں پر غصہ آنے لگتا ہے اور ہارمون میں موجو د عدم توازن ،دماغ میں موجود نیورو ٹر انسمیٹر کو متاثر کرتا ہے جس کی وجہ سے بار بار غصہ آتا ہے۔ چکر آنا حمل کی ابتدائی علامت میں سے ایک ہے۔ جو کہ اکثر حاملہ خواتین میں پائی جاتی ہیں۔ بلڈ پریشر میں کمی آجاتی ہے۔ جس کی وجہ سے سر چکراتا ہے۔ اور عدم توازن کااحساس ہوتا ہے۔ اگر آپ کو باقی علامات کے ساتھ قبض کا مسئلہ بھی ہو تو آ پکو حاملہ ٹیسٹ کروانے پر ضرور غور کرنا چاہیے۔

ایسٹروجن اور پرو ٹیسٹر ون ہارمونز کی بگاڑ کی وجہ ، خ۔ون میں شو گر کی سطح میں کمی کا باعث بنتی ہے۔ جس کی وجہ سے سر میں درد ہونے لگتا ہے۔ کیونکہ دماغی خلیے شوگر کی فراہمی کو کم سطح پر برقرار رکھنے کے لیے جد و جہد کرتے ہیں۔ سانس لینے میں دقت اور دشواری حمل کی علامات میں سے ہوسکتی ہیں۔ کیونکہ جسم کو دو جانوں کے لیے سانس لینے کے لیے زیادہ آکسیجن اور خ۔ون کی ضرورت ہوتی ہے۔ کھانے پینے کی چیزوں کی خوشبو سے جی متلا نا بھی ابتدائی حمل کی علامات میں سے ایک ہے۔ ہارمونل تبدیلیاں آپ کو ہروقت تھکن کااحساس دیتی ہیں۔ معمول سے زیادہ تھکن اور نیند نہ آنا حاملہ خواتین کی نشانیوں میں سے ایک بڑی نشانی سمجھی جاتی ہے۔

ابتدائی علامات پیریڈز سے پہلے ظاہر ہونے لگتی ہیں۔ لیکن پیریڈز مس ہونے کے ایک ہفتے بعد ہی آپ کو گھر پر ہی حمل ٹیسٹ کر لینا چاہیے۔ہفتوں تک درجہ حرارت بڑھتی ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!