جنت میں حوریں نہیں، بیوی چاہیے اس نوجوان کی اہلیہ کے انتق ال نے کچھ عرصے بعد اسے بدل کر رکھ دیا

جنت میں حوریں

کائنات نیوز! سوشل میڈیا پر کئی طرح کی ویڈیوز پائی جاتی ہیں لیکن ان میں ایسی ویڈیوز بھی موجود ہوتی ہیں جوکہ کسی مضبوط رشتے کو بتا رہی ہوتی ہے۔ آج کے اس آرٹیکل  میں آپ کو ایک ایسے نوجوان کے بارے میں بتائے گی جس نے اہلیہ کے انت قال کے بعد ایک مدرسہ بنا دیا۔ ندگی میں کئی اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں۔ شفقت کی 2017 میں شادی ہوئی تھی، سنبل نامی لڑکی جب ان کی لیکن شادی کے کچھ عرصہ بعد ہی اہلیہ کے انتقال نے شفقت کو مکمل طور پر

تبدیل کر دیا۔ شفقت کہتے ہیں کہ سنبل شادی کے ڈیڑھ سال بعد ہی جہان فانی سے کوچ کر گئی تھیں۔ انہیں دل کا دورہ پڑا جو کہ جان لیوا ثابت ہوا۔ اس حادثے نے مجھے مکمل طور پر تبدیل کر دیا تھا۔ ان کی اچانک رحلت نے مجھے ہلا دیا تھا۔ سنبل کی فیملی اور ہماری فیملی رشتہ دار ہیں لیکن پسند کی شادی نہیں تھی۔ سنبل سے متعلق شفقت بتاتے ہیں کہ سنبل کا خواب تھا کہ وہ ایک بوتیک کھولیں، جہاں وہ اپنے ڈیزائینز کو لوگوں تک متعارف کرائیں۔ انہی کے نام سے میں نے ان کے بعد ایک بوتیک کھولا، جس کا نام میں نے سنبو رکھا۔ جو کہ سنبل ہی سے نکلا ہے۔ سنبل کے کپڑے رہن سہن اور کس طرح وہ لوگوں کو دیکھنا چاہتی تھیں، میں نے ان کی ہر چیز پر تحقیق کی اور پھر ان کا خواب اس طرح پورا کیا۔ سنبل کو شاپنگ کا بے حد شوق تھا۔

وہ جب کبھی شاپنگ پر جاتی تھیں تو میں باہر ان کا انتظار کرتا تھا اور وہ شاپنگ کرتی تھیں۔ شادی کی رات میں نے انہیں ایک وعدہ کیا تھا کہ میں انہیں کبھی نہیں بھولوں گا، میں خود کو بھول جاوں گا مگر انہیں نہیں بھولوں گا۔ سوشل پاکستان کو دیے گئے انٹرویو میں شفقت بتاتے ہیں کہ اہلیہ کو علم ہو گیا تھا کہ وہ جانے والی ہیں۔ تب ہی انہوں نے مجھے میسج کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں لیٹی ہوئی ہوں اور آپ میری ٹانگوں کے پاس بیٹھے ہوئے رو رہے ہو۔ جب شفقت نے یہ مسیج پڑھا تو وہ کچن میں کھچڑی بنا رہے تھے فورا اہلیہ کی طرف بھاگے اور پوچھا کہ یہ کیسی باتیں کر رہی ہو۔ جس پر اہلیہ نے مزاق کرتے ہوئے بات ٹال دی۔ لیکن شاید اہلیہ کو پتہ چل گیا تھا۔ اہلیہ کے بعد شفقت مکمل طور تبدیل ہو گئے تھے۔

ان کی زندگی میں ایک رنگ آیا جس نے ان کی زندگی کو رنگین بنا دیا تھا مگر پھر بے رنگ ہو گئی تھی زندگی۔ انہیں خیال آیا کہ کیوں نا عمرہ کر کے آؤں۔ اس سے زندگی بہتر ہو جائے گی۔ مگر پھر کورون ا کی صورتحال کی وجہ سے نہیں جایا پایا۔ انہی دنوں ایک بچہ میرے پاس مدرسہ کا چندہ مانگنے آیا۔ مجھے خیال آیا کہ کیوں نا عمرہ کے پیسے مدرسے کے لیے وقف کر دیے جائیں۔ اس سے سنبل بھی خوش ہوگی۔ اور اس طرح سنبل کے نام چندہ مدرسے کے لیے وقف کر دیا۔ دوسری شادی سے متعلق شفقت کہتے ہیں کہ والدین نے شروعات میں تو زور نہیں دیا مگر اب وہ کہہ رہے ہیں کہ زندگی میں آگے بڑھنا ہے اور اس غم کو دوسری شادی ہی دور کر سکتی ہے۔ اب شفقت کو بھی محسوس ہو رہا ہے کہ والدین اسے لے کر پریشان ہو رہے ہیں۔ اسی لیے وہ بھی اپنے آپ کو ذہنی طور پر دوسری شادی کے لیے تیار کر رہا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!