بے شرمی کی ہر حد پار، عائشہ احتشام ‘ لائیو پروگرام میں کیا کرتی رہیں؟ ویڈیو دیکھ کر پاکستانی شرم سے پانی پانی ہوگئے

اسلام آباد( آن لائن نیوز ) نجی ٹی وی اینکر عائشہ احتشام غلط الفاظ استعمال کرنے پر تنقید اور مذاق کی زد میں آگئیں، ہوا کچھ یوں کہ گزشتہ روز اینکر عائشہ احتشام نے گزشتہ روز شہید ہونیوالے نعمان اکرم سے متعلق کہا کہ انہوں نے Ejaculate نہیں کیا اور جو ٹائم وہ Ejaculation میں لگاسکتےتھے انہوں نے طیارے کو غیرآباد علاقے میں لے جانے میں لگا دیا۔اپنے ان الفاظ پر عائشہ احتشام تنقید اور مذاق کی زد میں آگئیں،،

سوشل میڈیا صارفین نے عائشہ احتشام اور پروگرام کی ٹیم کی اہلیت پر بھی سوال اٹھایا۔بھارتی سوشل میڈیا صارفین اس ویڈیو کو دھڑا دھڑ شئیر کررہے ہیں اور عائشہ احتشام کے اس ایک لفظ کو پکڑ لیا اور مذاق بنانا شروع کردیا، وہ نہ صرف عائشہ احتشام کا بلکہ پاکستان کا بھی مذاق بنارہے ہیں۔سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ اس خاتون اینکر نے یہ لفظ استعمال کرکے پاکستان کی سبکی کروائی ہے اور بھارتی اس لفظ کو استعمال کرکے تماشہ بنارہے ہیں۔ایک صارف نے کہا کہ کیا بے ہودگی ہے یار؟ ان لوگوں کو اینکرز کس نے بنادیا؟ یہ غلط لفظ بار بار اور جان کر بولا گیا تو کاروائی ہونی چاہیے اور اگر پتہ نہیں کہ ”ایجیکشن“(EJECTION) بولنا تھا تو اس نااہل کو یہاں میڈیا پر ہونا نہیں چاہیے۔اب پاکستان دشمن لوگ اس ویڈیو کا غلط استعمال کرکے تماشہ بنارہے ہیں۔

صحافی نائلہ عنایت نے کہا کہ جب آپ کام پر ہوں اور آپکا دھیان کسی اور جگہ پر ہو۔سعادت یونس کا کہنا تھا کہ اس خاتون اینکر کو سمجھاؤ Eject اور Ejaculation میں بہت فرق ہوتا ہے۔یہ لیول رہ گیا ہے صحافت کاسید فیاض علی نے کہا کہ اِس بی بی کو اینکر کس نے بنایا جسے یہ نہیں پتا کہ Ejaculation کا مطلب کیا ہوتا ہےڈاکٹر فیضان نے کہا کہ واہ اللہ تیری قدرت۔۔۔ کیسےکیسے سو کالڈ اینکرپرسنز پرائم ٹائم کے اوقات میں بیٹھ کر مہا بونگیاں مارنےمیں مصروف ہوتےہیں۔واضح رہے کہ عائشہ احتشام وہی اینکر ہیں جس کے پروگرام میں کچھ روز قبل ماروی سر مد اور خلیل الرحمان قمر کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا تھا اور خلیل الرحمان قمر نے ماروی سرمد کو گالیاں دی تھیں لیکن یہ اینکر انہیں کنٹرول نہ کرپائیں اور بعد میں صفائیاں دیتی رہیں۔سوشل میڈیا صارفین کے مطابق عائشہ احتشام کی اہلیت کھل کر سامنے آگئی ہے ۔ اسے دوبارہ جیو یا کسی اور چینل پر جاکر خبرنامہ پڑھنا چاہئے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!