محبت مر بھی سکتی ہے، ہمارے معاشرے کی ایک دل دہلا دینے والی داستان

محبت مر بھی سکتی ہے، ہمارے معاشرے کی ایک دل دہلا دینے والی داستان, سا نو ل اسکا نا م ا سکے با با نے ر کھا تھا اس لیئے کہ اس کا با پ ا یک محبت پر ست ا نسا ن تھا اور سا نو ل بھی محبت پر پو را ا یما ن ر کھتا تھا جب اسے پر ی سے محبت نہ ہو ئی تھی اسو قت وہ جذ بہ محبت کو خیا لو ں میں محسو س کر تا اسکی پو ر ی کو شش تھی کہ ا سے سچ میں کسی سے محبت ہو اور ا سکی محبت کسی خیال یا تصویر کی بجا ئے ایک جیتا جا گتا و جو د ہو اور جب ا سکی ز ند گی میں پر ی آ گئی تو وہ با قا ئدہ محبت کا قا ئل ہو گیا پر ی کا ا صل نا م پر و ین تھا

ا سکے وا لد ین پیار سے ا سے پر ی کہتے تھے پر ی بلا کی حسین اور ایک پڑ ھی لکھی لڑ کی تھی ا سکا پو را خا ندا ن کرا چی میں ر ہتا تھا وہ ما ڈرن ہو نے کے سا تھ سا تھ ذ ہین تر ین لڑ کی تھی اور ڈا کٹر بننے کے لیئے ہا وس جا ب کر ر ہی تھیکہ ا چا نک اس کی ملا قا ت سا نو ل سے ہو ئی سا نو ل بھی ا یم بی اے کر چکا تھا اور ا نٹرن شپ کر رہا تھا دو نو ں پر یکٹیکل لا ئف میں قدم ر کھ چکے تھے وہ دو نو ں ا یک دو سرے کے لیئے پر فیکٹ تو تھے ہی اس پر غضب یہ کہ وہ ا یک دو سر ے سے چند ہی د نو ں میں بے ا نتہا محبت بھی کر نے لگے تھے لہذا دو نو ں جذ بہ محبت سے لبا لب دل لیئے شا دی کے بند ھن میں بند ھ گئے ان کی خو شی کا کو ئی ٹھکا نہ نہ تھا

شا دی کی پہلی را ت دو نو ں نے کبھی بھی جدا نہ ہو نے کے عہد و پیما ن کیئےاور سا ری ز ند گی ہنسی خو شی گزا ر نے کے منصو بے بھی بنا ئے دو نو ں ہنی مون پر گئے اور و ہا ں جا کر بے شما ر یاد گار تصا و یر بھی بنا ئیں اس را ت ان دو نو ں نے ڈا ئر ی بھی لکھی اور سو چا کہ اس ڈا ئر ی کو کبھی بھی ضا ئع نہ ہو نے د یں گے ڈا ئر ی کیا تھی ا یک عہد نا مہ تھا جس میں ایک ہی طر ح کے ا لفا ظ تحر یر تھے ہم ا یک سا تھ جیئں مر یں گے کبھی بھی ا یک دو سر ے کے سا تھ بے و فا ئی نہ کر یں گے مر تے دم تک ا یک دو سرے کا سا تھ نبھا ئیں گے و غیر ہ و غیر ہجب میں پر ی کی ڈا ئر ی پڑھ ر ہی تھی تو مجھے لگا تو مجھے لگا کہ پر ی نے یہ کبھی نہ سو چا ہو گا کہ محبت مر بھی سکتی ہے بلکہ اس نے تو سو چا ہو گا کہ اس دور میں بھی ز ند گی گزا ر نے کے لیئے صرف اور صرف محبت ہی کا فی ہے اور سا نو ل نے بھی سو چا ہو گا کہ

د نیا کی تما م چیز یں عا ر ضی اور محبت ا بد ی ہو تی ہے کیو نکہ وہ دو نو ں لٹر یچر کے شیدا ئی تھے اور محبت دو نو ں کا پسند یدہ مو ضو ع تھا ا نھو ں نے ایک با ر بھی یہ نہ سو چا تھا کہ ز ند گی کے کسی مو ڑ پر ان میں سے کو ئی ا یک بھی بے و فا ئی کر ے گا ۔ارے بے و فا ئی تو دور کی با ت وہ کبھی ا یسا سو چیں گے بھی نہیں شا ئد کہ یہ محبت سے بھی آ گے کا جذ بہ ہو تا ہے جو ا نسا ن کو ا نسا ن سے فر شتہ بنا د یتا ہے اور ا یک مر بو ط ر شتے میں اسطر ح جکڑ د یتا ہے کہ ا نسا ن ا پنے محبو ب کی جدا ئی کے تصور سے ہی مو ت کا سا منا کر نے جیسی ا ذ یتیں بھی بر دا شت کر لیتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر ۔۔یہ کہ کا ش ا نسا ن اس جذ بے کے علا وہ پھر تا حیا ت کو ئی خوا ہش نہ پا لے ا نسا ن کی پھر محبت ہی پہلی اور آ خر ی خوا ہش ہو نی چا یئے و یسے یہ میرا ذا تی خیا ل ہے جو کہ غلط بھی ہو سکتا ہے کہ د نیا و ی لا لچ اور حر ص و حو س نے محبت جیسے ا نمو ل جذ بے کو بھی بکا و بنا د یا ہے

ا ب ا یک عو رت کی جگہ دو سری عورت با آ سا نی لے لیتی ہے کچھ ا یسے ہی میر ی آ نکھو ں کے سا منے کئی وا قعا ت ہو ئے جنھو ں نے مجھے لکھنے پر اور آ پ لو گو ں سے پو چھنے پر مجبو ر کر د یا کہ کیا یہ ا یک عو رت کے سا تھ ا نصا ف ہےتو دو س تو سا نو ل کی شا دی کو پا نچ سا ل گزر چکے تھے مگر پرو ین کے ہا ں ا ولا د کی کو ئی ا مید پیدا نہ ہو ئی محلے میں با تیں ہو نے لگیں کہ سا نو ل کی بیو ی با نجھ ہے مگر سا نو ل کو اس با ت کی کو ئی پروا ہ نہ تھی وہ ہمیشہ کہتا کہ میر ے لیئے پرو ین کی محبت اور اس کا سا تھ ہی کا فی ہے ہم دو نو ں ا پنی ز ند گی میں خوش ہیں مجھے کسی چیز کی کمی محسو س نہیں ہو تی مگر سا نو ل کی ما ں اور بہنیں کسی طور بھی سا نو ل کی با نجھ بیو ی پر و ین کو بر دا شت کر نے کے لیئے تیا ر نہ تھیں سا نو ل کی ما ں نے سا نو ل سے صا ف صا ف کہ د یا تھایا تو میر ی ما ن کر دو سری شا دی کر لو ور نہ

میں خود کشی کر لو ں گی سا نو ل ا پنی ما ں کا ا یک ہی بیٹا ہو نے کی و جہ سے ا پنی ما ں کا کہنا بھی نہ ٹا ل سکتا تھا آ خر ا سکی ما ں نے کا فی لڑا ئی جھگڑو ں کے بعد سا نو ل کی ایک خو بصورت اور اور جوا ن لڑ کی ے شا دی کر دی سا نو ل نے جب ا سے د یکھا تو وہ پر ی کی سا ری عمر کی خد متو ں قر با نیو ں اور محبتو ں کو بھو ل گیا تھا ا د ھر پر و ین ا پنے با پ کے گھر میں بیٹھی پر یشا ن تھی کہ ا ب کی با ر سا نو ل نے ا سقدر د یر کیو ں کر د یوہ مجھے لینے کیو ں نہیں آیا وہ میرا فو ن کیو ں نہیں ا ٹینڈ کر تا کیا وہ مجھ سے خفا ہو گیا ہے آ خر مجھ سے کیا غلطی ہو گئی ہے و ہ ا یسا تو نہ تھا پرو ین ا پنی ما ں سے مخا طب تھی کہ ا سکی ما ں نے ا سے کہا بیٹا تم ا ب ا کیلی ر ہنے کی ا کیلی ڈا ل لو ہو سکتا ہے ا ب وہ تمہیں کبھی بھی لینے نہ آ ئےآ ج شا دی کے پچیس سا ل گزر جا نے کے بعد اس نے تم سے بے و فا ئی کی ہے کا ش کہ تم میر ی با ت ما ن لیتی بیٹی اور محبت نہ کر تی اور پر ی کو ا پنی سما عت پر یقین نہ آ یا تھا کیا وہ ا یسا بھی کر سکتا ہے ۔۔۔۔۔پر ی بڑ بڑا ئی ۔وہ ا یسا کر چکا ہے بیٹی ا سکی وا لدہ نے ا سے سمجھا نے کی کو شش کی ۔

مگر وہ نہ ما نی اور سا نو ل سے یہ پو چھنے چل نکلی کہ آ خر ا سکا قصور کیا تھاجب وہ سا نو ل کے گھر پہنچی تو سا نو ل ا پنی نئی بیو ی کے سا تھ ہنی مو ن پر جا نے کی تیا ری کر ر ہا تھا اور ا پنی ما ں سے کہہ ر ہا تھا کہ ما ں قسم سے میر ی شا دی تو اب ہو ئی ہے اور محبتو ں میں کچھ نہیں ر کھا پر و ین یہ ا لفا ظ سنتے ہی وا پس پلٹ آ ئی پر و ین اور با نو ا پنے وا لد ین کی دو ہی او لا د یں تھیں ان کو ئی بھا ئی نہ تھا کہ پر ی کے پو رے ا یک مہینے بعد با نجھ ہو نے کی و جہ سے با نو بھی ا پنے میکے آ کر بیٹھ گئیپہلے تو وہ دو نو ں بہنیں گلے مل کر خو ب رو ئیں مگر پھر ہمیشہ کے لیئے آ نسو صا ف کر تے ہو ئے عہد کیا کہ وہ کبھی بھی ا پنے بے و فا شو ہر و ں کو یا د نہ کر یں گیں اب پرو ین ا یک ا چھی اور ہمدرد ڈاکٹر ہے اور با نو لیکچرا ر وہ ا پنے وا لد ین کا شکر یہ ا دا کر تے ہو ئے نہیں تھکتیں جھو ں نے ا نھیں تعلیم سے آ را ستہ کیا ۔اور ا نکی ز ند گی کو کو ا یک مقصد د ے د یا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آ خر میں اس نے مجھ سے ا یک سوا ل کیا نا ئلہ ا گر میر ے وا لد ین ہمیں تعلیم نہ د لا تے تو جا نتی ہو ہم کس حد تک جا سکتی تھیں ؟میں نے سو چا یقیننا اس کے بعد دو ہی را ستے رہ جا تے ہیں خود کشی ۔یا بے راہ رو ی ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!