بھولو مت! میں سیاسی چمچہ نہیں ہوں بلکہ میں تو، مولانا طارق جمیل کا سیاست سے کیا تعلق ہے؟

اسلام آباد (آن لائن نیوز)نامورمذہبی اسکالر مولانا طارق جمیل کا کہنا ہے کہ میراسیاست کے ساتھ کوئی لین دین نہیں ہے اور میں کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں رکھتا اور سارے سیاسی لوگ میرے اپنے ہیں، میرے پاکستانی بھائی ہیں میرا ان سب سے ملنا جلنا ہے ، میرا پیغام اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانا ہے۔ میراسیاست سے کوئی تعلق نہیں اور میرا تعلق تبلیغی جماعت سے ہے

اور یہ موت تک رہے گا ، میں تبلیغ والا ہوں اور میراکام ڈاکیئے کا ہے کہ میں نے سب کے پاس جانا ہے اور سب کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانا ہے،میں سیاسی چمچہ نہیں ہوں بلکہ میں اللہ تعالیٰ کے نبیﷺ کا چمچہ ہوں اور میں اللہ اور اس کے رسولﷺ کا مراثی ہوں، مجھے ان بادشاہوں سے کوئی غرض نہیں ، کوروناوائرس سے بچاﺅ کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے رجوع اور توبہ استغفار کریں۔ہم قرآن مجید کو ویسے ہی چھوڑ چکے ہیں، ہماری اکثریت کو قرآن پڑھنا نہیں آتا، پی ایچ ڈی کرنے والوں کو سورة فاتحہ نہیں آتی،مسجد میںباجماعت نماز، نماز جمعہ اور تراویخ کے حوالہ سے مفتی تقی عثمانی جو فتویٰ دیں لوگوں کو اس پر عمل کرنا چاہئے ۔ اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کو بہت زیادہ مال دیا ہے وہ اس مشکل گھڑی میں غریبوں کی مدد کریں اور ان کے گھر راشن پہنچائیں اور ان کی ضروریات کا خیال کریں۔

ان خیالا ت کا اظہار مولانا طارق جمیل  نے سرکاری ٹی وی سے انٹرویو میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ کوروناوئرس ایک آسمانی آفت ہے اس کے خلاف ہم ظاہری تدابیر اختیار کریں گے یہ میرے نبیﷺ نے فرمایا ہے ، لیکن اس کا اصل علاج ہے کہ ہم نے زمین کو اپنی نافرمانی سے گندا کردیا ہے ، اللہ تعالی اسے صاف کرنا چاہتا ہے توہم اللہ تعالیٰ کا تعاون کریں اور ظلم چھوڑیں ، جھوٹ چھوڑیں ، دھوکہ بازی چھوڑیں اور ماںباپ کی نافرمانی چھوڑیں۔ اس وقت ہمیں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا اور توبہ کرناہے، یہ بہت ضروری ہو چکا ہے، اس کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں ٹال سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ احتیاط تو بہت ضروری ہے اور اللہ تعالیٰ کے محبوب پیغمبر محمد ﷺسے بڑھ کر توکل والا کون ہو گا، بخاری شریف کی روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ وبائی مرض کے شکار شخص کو دیکھ کر ایسے دوڑو جیسے شیر کو دیکھ کر دوڑتے ہو، کہ وہ آگے منتقل نہ ہو جائے جبکہ

مسلم شریف کی روایت ہے کہ طائف کا وفد نبی ﷺ سے بیعت کرنے آیا اس وفد میں40آدمی تھے اور ان میں سے ایک وبائی مرض کا شکار تھا تو نبیﷺ نے39افراد کی بیعت مصافحہ کے ساتھ فرمائی اور وبائی مرض کے شکار شخص کی بیعت بغیر مصافحہ کے فرمائی اور فرمایاکہ تیری بیعت ہو گئی۔ جبکہ حیثمی کی روایت ہے کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ تمہارے اور وبائی مریض کے درمیان ایک نیزے کا فاصلہ ہونا چاہئے جو تقریباً چھ فٹ ہوتا ہے اور آجکل ہمارے ڈاکٹرز یہی کہہ رہے ہیں کہ چھ فٹ یا چار فٹ کا ایک دوسرے سے فاصلہ رکھیں۔ مولانا طارق جمیل کا کہنا تھا کہ انسانی اخلاق جب تک زندہ نہ ہوں تو آدمی پیسے کا ہی غلام ہوتا ہے اور بخاری شریف میں حدیث ہے نبی ﷺ نے فرمایا کہ پیسے کا غلام اور سونے چاندی کا غلام اور دنیاوی چیزوں کی زیب وزینت کا غلام ہلاک ہو گیا ۔ ذخیرہ اندوزی تو کسی وقت بھی حلال نہیں بلکہ یہ حرام ہے اور اس موقع پرتو ہمیں دروازے کھول دینے چاہئیں، جاپان میں زلزلہ آیا تھا تو دکانداروں نے چیزیں مفت رکھ دی تھیں کہ جو لے جاناچاہے لے جائے ، ہم مسلمان ہیں ہمیں تو اس موقع پر لوگوں کی خدمت کرنی چاہئے ، الٹا قیمتیں بڑھانااور ذخیرہ کرنا یہ توجہنم کے انگارے خریدنے والی بات ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نبیﷺ نے فرمایا کہ اپنے مریضوں کا علاج صدقہ کے ساتھ کرو،

اپنے مال کی حفاظت کرو زکوٰة دینے کے ساتھ اور جب کوئی مصیبت آئے تو اس کا علاج دعاکے ساتھ کرو۔ یہ تین باتیں ہمارے نبیﷺ کا فرمان ہے اگر ان پر یقین کے ساتھ عمل کریں تو اللہ تعالیٰ حفاظت فرمائے گا۔ میراسیاست کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اور میں کسی سیاسی جماعت کا فرد نہیں ہوں اور سارے سیاسی لوگ میرے ہیں، میرے پاکستانی بھائی ہیں میں سب سے ملتاہوں ، میرا پیغام اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاناہے ، کوئی کہتا ہے کہ اللہ والے بادشاہوں کے پاس نہیں جاتے اور بادشاہ اللہ والوں کے پاس آتے ہیں ، میں نے کہا فرعون سے بڑا بادشاہ نہیں تھا اور حضرت موسیٰ سے بڑا اللہ والا کوئی نہیں تھا ، اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ سے کہا کہ جافرعون کو دعوت دے وہ سرکش ہو گیا ، میں1992سے بادشاہوں سے مل رہا ہوں، اس وقت اتنا میڈیا نہیں تھا اور چیزکا اتنا پتہ نہیں چلتا تھا، طارق جمیل کا کہنا تھا کہ جب محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت ہو ئی تو میں اس وقت میں مدینہ میں تھا تو میں واپس آیا اور ملتان سے فلائٹ لے کر کراچی گیا اور وہاں سے کچھ دوستوں کو لے کر گڑھی حبیب اللہ پہنچااور ان کی قبر پر فاتحہ پڑھی،ذوالفقار علی بھٹو تو ہمارے ہردلعزیز تھے ان کی قبر پر فاتحہ پڑھی اور سارے بھٹو خاندان کے افراد کی قبروں پر فاتحہ پڑھی اور اگر اس وقت میڈیا زندہ ہوتا تو (ن)لیگ اور جمعیت والوں نے کہنا تھا کہ یہ پی پی پی والوں کا چمچہ ہو گیا اور یہ بھی ان سے کچھ لینا چاہتا ہے پھر میاں نواز شریف حکمران تھے اور میں ہمیشہ حکمرانوں کے لئے دعاکرتاہوں،

کبھی بدعانہیں کرتا، بدعاکرنے کا کیا فائدہ وہ ہلاک ہو جائیں ، دعاکرنے کا فائدہ ہے کہ وہ بھی ہدایت پاجائیں گے اور ملک بھی ہدایت پائے گا، میں اللہ تعالیٰ کو گواہ بناکر کہہ رہا ہوں کہ میں نے میاں محمد نوازشریف اور میاں محمد شہباز شریف کے لئے حرم میں دعائیں کیں ، میں نے طواف میں دعائیں کیں، میں نے ان کے سلام پہنچائے ، میں نے ان کے لئے روزہ رسول ﷺ کے سامنے کھڑے ہو کردعائیں کیں کہ اللہان کی صحیح رہبری فرما، کیا میں (ن)لیگ کا ہو گیا ، ہرگز نہیں، میں نے بیگم کلثوم نواز شریف کی نماز جنازہ پڑھائی تو پی ٹی آئی والوں نے مجھ پر چڑھائی کردی چمچہ ہے، چمچہ ہے ، حکومت کا درباری ہے،اب میں نے عمران خان کی تعریف کی جس کا وہ حقدار ہے ، اللہ کی قسم میں خوشامدی نہیں ہوں ، طارق جمیل کا کہنا تھا کہ میں آج تک حکمرانوں سے شرمندہ نہیں ہوں ، میں نے ایک دھیلے اور ایک پیسے کا کبھی ان سے نفع نہیں اٹھایا ، صرف چائے یا کھانا کھایا۔ عمران خان کی تعریف اس لئے کرتاہوں کہ وہ تعریف کے قابل ہے ، غلطیاں ہر انسان میں ہوتی ہیں، میں نے اس کی تعریف کی تو جمعیت والوں نے علماءہو کر مجھے اتنی گالیاں نکالیں کہ اتنی گالیاں تو بازاری لوگ بھی نہیں نکالتے جیسے انہوں نے گالیاں نکالیں، پتہ نہیں کیا کچھ کہا میں اس کو دفع کرتا ہوں،

میں اپنے دل کو سب کے لئے صاف رکھتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے حج اور رمضان میں عمرے کے لئے پیسے دیئے ہیں وہ پیسے واپس بھی لے سکتے ہیں اور اگر وہ چاہیں تو ریلیف فنڈ میں دے دیں، حج کے بارے میں سوشل میڈیا پر میں سعودی حکومت کی جانب سے اعلان سنا تھا کہ اس دفعہ حج کی تیاری نہ کی جائے اور باہر کے لوگ حج کی تیاری نہ کریں، اس سے پتہ چلتاہے کہ حج نہیں ہو گا اور رمضان کا عمرہ بھی نہیں ہو گا اور جنہوں نے نیت کی ہوئی ہے انہیں یہیں پر اجر مل جائے گا اور وہ اپنے پیسے گھر میں رکھنے کی بجائے ضرورت مندوں میں تقسیم کردیں تو زیادہ بہتر ہے ۔

یہ بھی پڑھیں! ایک فقیر اور فاحشہ کہ کہانی، ایمان آفروز داستان

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!