مساجد میں تراویح اور20نکات پر اتفاق رائے! حکومت اور علماء کے درمیان نئی کشمکش پیدا ہو گئی

لاہور(آن لائن نیوز) مساجد میں تراویح کے حوالے سے اجتماع کی مشروط اجازت کو بہت بڑا رسک قرار دیا جا سکتا ہے ۔ صدر مملکت نے علما سے مشاورت کے بعد جن 20نکات پر اتفاق رائے ظاہر کیا ہے وہ بظاہر تو سادہ لیکن عملاً ناممکن نظر آتے ہیں ، یہ تاثر عام ہو رہا ہےکہ اگر خدانخواستہ تراویح اور نماز کی ادائیگی کے دوران وائرس کا پھیلاؤ بڑھتا ہے تو اس کی ذمہ دار حکومت ہوگی یا علما کرام؟ ۔

علمارمضان المبارک میں مساجد میں تراویح اور جمعہ کے اجتماع کے حوالہ سے کوئی کمپرومائز کرنے کو تیار نہ تھے اس کی ایک وجہ یہ بھی قرار دی جا رہی ہے کہ چونکہ پاکستان کے اندر ہزارہا مساجد کے علما کرام اور آئمہ کرام رمضان المبارک میں خصوصی تراویح کا اہتمام کرتے ہیں اور ان کے پیچھے قرآن پاک سننے والے ان سے ان کی اس ذمہ داری پر محبت کے اظہار کے طور پر عید سے پہلے اور عیدالفطر کے بعد ان کی اپنی خوشی سے خدمت کرتے رہے ہیں اور چونکہ ہمارے یہ علما اور آئمہ اتنے زیادہ معاشی حوالہ سے خوشحال نہیں ہوئے لہٰذا ضرورت اس امر کی تھی کہ حکومت اپنے مذاکراتی عمل میں ان کے معاشی مسائل کا ادراک کرتے ہوئے ان کیلئے خصوصی مراعات یا پیکیج کا اہتمام کرتی تو شاید ان کے اساتذہ کرام اس کیلئے اتنا اصرار نہ کرتے ،جہاں تک علما سے مذاکراتی عمل کے بعد سامنے آنے والی شرائط کا تعلق ہے تو ان میں سے زیادہ تر کا تعلق مسجد کے اندر احتیاطی تدابیر اور خصوصاً صفائی کے حوالہ سے ہے ۔ جہاں تک مسجدوں کے فرش کو کلورین سے دھونے ، چٹائی پر کلورین کے محلول کے چھڑکاؤ کا سوال ہے تو یہ کام ایک دو روز تو ہو سکتا ہے لیکن اسے مسلسل تیس روز تک کرنا ممکن نظر نہیں آتا اور دوسری جانب مساجد کے احاطہ میں نماز کا اہتمام صف بندی کے دوران نمازیوں میں چھ فٹ کا فاصلہ،

صف میں دو نمازیوں کی جگہ خالی چھوڑنے کا عمل بھی مسلسل ممکن نظر نہیں آتا۔جہاں تک صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا ہے کہ اگر علما کرام نے ان خصوصی ہدایات کی پابندی نہ کی تو پھر حکومت کوئی اور حکم بھی جاری کر سکتی ہے تو پھر یہ سوال کھڑا ہو رہا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ریاست اور حکومت لاک ڈاؤن کی طرح اس پابندی کے حوالہ سے بھی یکسوئی اختیار نہ کرسکی اور کورونا جیسے حساس ایشو پر خطرات اور خدشات کے پیش نظر اپنی بات نہ منوانا خود ریاستی رٹ کے آگے سوالیہ نشان کی حیثیت رکھتا ہے اور خود یہ معاہدہ پاکستان میں عزت و تکریم کے حامل علما کیلئے بھی ایک بہت بڑے چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے کہ حکومت کی جانب سے تمام تر خطرات سے آگاہی کے باوجود ان کی ضد کے سامنے حکومت ڈھیر ہوئی اور خدا نہ کرے کہ اس ضد کا خمیازہ نمازیوں کو بھگتنا پڑے ۔

یہ بھی پڑھیں! ہوشیار! مرغی کھانے کے فوائد اور نقصانات،آپ بھی جان لیجیئے ورنہ

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!