پاکستان میں حالات اٹلی سے بد تر ہو سکتے ہیں! ملک بھر میں کرونا وائرس تیزی سے پھیلنے لگا، ماہرین نےخطرے کی گھنٹی بجا دی

لاہور( آن لائن نیوز) ماہر صحت ڈاکٹر عبدالباری خان اور ڈاکٹر سعد نیازکا کہنا ہے کہ ہم مجمع روکنے کی بات کر رہے ہیں چاہے وہ مارکیٹ میں ہو یا مسجد میں ہو کیونکہ اگر احتیاط نہ کی تو خدانخواستہ صورتحال اٹلی جیسی ہوسکتی ہے ۔ جیو نیوز کے پروگرام ’جیو پاکستان ‘میں بات کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالباری خان نے کہا کہ کرونا وائرس کے کیسز تیزی سے بڑھے تو اسپتالوں کیلئے سنبھالنا مشکل ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ مجمع چاہے مارکیٹ میں ہو یا مسجد میں اسے روکنے کی ضرورت ہے، مجمع کہیں بھی ہو وہاں خطرہ بڑھ جاتا ہے،ہمیں ویسے ہی وینٹی لیٹرز کی کمی کا سامنا بھی ہے۔ڈاکٹر عبدالباری نے کہا کہ التجا ہے غیر ضروری گھر سے باہر نہ نکلیں،صفائی کا خیال رکھیں، ماسک کا استعمال لازمی کیا جائے۔جیو پاکستان میں ہی بات کرتے ہوئے ڈاکٹر سعد نیاز نے کہا کہ ٹیسٹ بڑھائے جائیں گے تو کورونا کیسز بھی زیادہ آئیں گے،اس وقت ہم مجمع روکنے کی بات کر رہے ہیں چاہے وہ مارکیٹ میں ہو یا مسجد میں ہو۔ڈاکٹر سعد نیاز نے کہا کہ ہمارے ہیلتھ سسٹم میں اتنی صلاحیت نہیں کہ بڑی تعداد میں کیسز دیکھ سکے، سب کہہ رہے ہیں مئی میں کورونا وائرس کے کیسز بڑھیں گے۔انہوں نے بتایا کہ سخت احتیاط کی ضرورت ہے،ہمارا صحت کا نظام زیادہ کیسز کا متحمل نہیں ہوسکتا، لاک ڈاؤن کو مزید دو سے چار ہفتے بڑھانا ہوگا۔ ڈاکٹر سعد نے کہا کہ جہاں مجمع ہوگا وہاں کورونا کے پھیلنے کا خدشہ ہوگا ۔دوسری جانب پاکستان میں کورونا وائرس سے مزید 13 افراد جاں بحق ہوگئے جسکے بعد ملک میں مہلک وبا سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 220 ہو گئی جبکہ

مزید 837 نئے کیسز سامنے آنے کے بعد مصدقہ مریضوں کی تعداد 10503 تک پہنچ گئی ہے۔220 ہلاکتوں میں سے اب تک سب سے زیادہ اموات خیبرپختونخوا میں سامنے آئی ہیں جہاں کورونا سے 83افراد انتقال کرچکے ہیں۔اس کے علاوہ سندھ میں 69، پنجاب میں 56، بلوچستان میں 6 جبکہ گلگت بلتستان اوراسلام آباد میں تین، تین افراد اس مہلک وائرس کے باعث ہلاک ہوئے۔کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے مطابق اب تک ملک بھر میں کورونا کے 2156؍ مریض صحت یاب ہوچکے ہیں جبکہ مجموعی طور پر 11820؍ افراد کے ٹیسٹ ہوچکے ہیں۔آج بروز بدھ ملک بھر سے کورونا کے مزید 837 کیسز رپورٹ ہوئے اور 13 ہلاکتیں بھی سامنے آئیں جن میں سے پنجاب میں 335 کیسز اور 7 ہلاکتیں، سندھ میں 320 کیسز 3 ہلاکتیں، خیبر پختونخوا 108 نئے کیسز 3 ہلاکتیں، بلوچستان سے 57 کیسز، اسلام آباد 9 ، گلگت بلتستان میں 7 اور آزاد کشمیر سے ایک کیس رپورٹ ہواہے۔سندھ میں آج مزید 320 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی اور 3 افراد وائرس سے انتقال کرگئے۔ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب کے مطابق سندھ میں کورونا سے جاں بحق افراد کی تعداد 69 اور متاثرہ مریضوں کی تعداد 3373 ہوگئی ہے۔مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ صوبے میں 24 گھنٹوں کے دوران مزید 50 افراد صحت یاب ہوئے ہیں جسکے بعد صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 715 ہوگئی ہے۔محکمہ صحت سندھ کے مطابق کراچی میں کورونا وائرس سےمتاثرہ 3 مریض جاں بحق ہوگئے

یہ بھی پڑھیں! پاکستان سے کورونا وائرس ختم ہونے میں کتنا وقت لے گا؟ معروف علمِ ماہر نجوم سامعہ خان نے پیش گوئی کردی

جنکی عمریں 67، 60 اور 81 سال تھی۔سندھ بھر میں 24؍ گھنٹوں کے دوران کورونا کے 320نئے کیس رپورٹ ہوئے۔کراچی میں 292 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی۔ حیدرآباد میں 19، شہید بے نظیرآباد میں 1، گھوٹکی میں 1، خیرپور میں 2، کمبر شہداد کوٹ میں 1 اور کشمور میں 4 افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے جسکے بعد کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 3 ہزار 373 ہوگئی۔ کراچی میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 2 ہزار 207 ہے۔ محکمہ صحت سندھ کے مطابق سندھ بھر میں کورونا کے 2 ہزار 589 مریض زیر علاج ہیں۔ صوبے میں 2 ہزار 101 افراد رابطوں کے زریعے متاثر ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ سندھ میں 30 ہزار 346 افراد کے کورونا ٹیسٹ کئےجاچکے ہیں۔ پنجاب میں آج کورونا کے مزید 335 کیسز سامنے آئے جبکہ 7 ہلاکتیں بھی ہوئیں جس کی تصدیق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کی۔عثمان بزدار کے مطابق صوبے میں نئے کیسز کے بعد مصدقہ مریضوں کی تعداد 4590 اور ہلاکتیں 56 ہوگئی ہیں۔صوبے میں اب تک کورونا سے 790 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں۔وفاقی دارالحکومت میں آج کورونا وائرس کے مزید 9 کیسز سامنے آئے۔پورٹل کے مطابق اسلام آباد میں کیسز کی مجموعی تعداد 194 ہوگئی ہے جبکہ شہر میں اب تک وائرس سے 3ا فراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔

آزاد کشمیر میں آج کورونا وائرس کا ایک کیس سامنے آیا جس کے بعد علاقے میں کیسز کی تعداد 51 ہوگئی ہے۔خیبر پختونخوا میں بدھ کو 108 نئے کیسز اور 3 ہلاکتیں سامنے آئیں جس کے بعد صوبے میں اموات کی تعداد 83 تک پہنچ گئی جبکہ مجموعی کیسز 1453 ہوگئے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!