مولانا طارق جمیل پر گھٹیا حملے کرنے پر ملیحہ ہاشمی نے ’’ لفافہ صحافیوں ‘‘ کی درگت بنا ڈالی

اسلام آباد (آن لائن نیوز) مولانا طارق جمیل پر گھٹیا حملے کرنے پر ملیحہ ہاشمی نے ’’ لفافہ صحافیوں ‘‘ کی درگت بنا ڈالی۔ ملیحہ ہاشمی کا تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آئینہ نہ توڑیں، اپنی اصلاح کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بچپن سے سنتے آئے ہیں”چور کی داڑھی میں تنکا” ، آج دیکھ بھی لیا۔ ملیحہ ہاشمی کا تبصرہ کرتے ہوئے کہا،

“چور کی داڑھی میں تنکا”۔ آج دیکھ بھی لیا، جب 48 گھنٹے پہلے مولانا طارق جمیل صاحب کی پوری پاکستانی قوم کی جانب سے اللہ‎ اللہ کے حضور گڑگڑا کر مانگی گئی دعا کو چند صحافیوں اور “عورت مارچ” کی پروردہ خواتین نے اپنی مرضی کا رنگ دے کر اودھم مچا دیا۔ بجائے اللہ‎ کی رحمت مانگنے کے، رمضان کی آغاز میں ہی بزرگ عالم دین کو اس حد تک لے آئے کہ انہوں نے ان سے بحث میں الجھنے یا اصلاح کرنے کی بجائے ان سے معافی مانگ کر خاموشی اختیار کرنا ہی بہتر گردانا۔ مولانا صاحب کی مخلص دعا میں اگر کسی کو آئینہ دیکھنے کو مل گیا ہے اور اس آئینے میں نظر آنے والا خود کا عکس ان کو خوفزدہ کر گیا ہے تو آئینہ نہ توڑیں، اپنی اصلاح کریں۔ پچھلے 6 ہفتے سے انکا “میرا جسم، میری مرضی” کا چورن نہیں ِبک رہا، نہ حامد میر کے “مبارک انکشافات” کا ، اب عوام میں کوئی scope رہا ہے تو اب یہ مل کر مولانا صاحب پر حملہ آور ہو گئے ہیں۔ مولانا صاحب نے جس معاشرتی بگاڑ کی نشاندہی کی، اس بگاڑ کی ذمہ داران ہرگز شرمندہ نہیں ہوئے، البتہ اس نیک عالم دین، جس نے لاکھوں لوگوں کو اللہ‎ کی مدد سے دائرہ اسلام میں داخل کروایا، کو اس کا ذکر کرنے پر ضرور شرمندہ کروا دیا۔ شرم اور افسوس کا مقام! وائے نادانی متاع کارواں جاتا رہا، کارواں کی دل سے احساس زیاں جاتا رہا۔

یہ بھی پڑھیں! کیا یہ ہے ہمارا دین! بزرگ کی توہین اور بےعزتی‘‘ حمیمہ ملک نے مولانا طارق جمیل سے معافی مانگ لی

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!