حکومت نے میٹرک کے رزلٹ کی تاریخوں کا اعلان کر دیا، سب طلبہ و طالبات حیران

لاہور (کائنات نیوز) صوبائی وزیرتعلیم مراد راس نے کہا ہے کہ میٹرک کے رزلٹ کی جون سے مارکنگ شروع کر دی جائے گی، 90 روز کے بعد نتائج جاری کر دیئے جائیں گے ، کسی بچے کا پریکٹیکل نہیں ہوگا . پنجاب بھر میں میٹرک رزلٹ کی تاریخوں کا اعلان کر دیا گیا، تفصیلات کے مطابق صوبائی وزیر تعلیم پنجاب مراد راس نے کہا ہے کہ میٹرک کے پیپرز کی مارکنگ 15 جون سے

شروع کر دی جائے گی جبکہ 90 روز میں نتائج کا اعلان کر دیا جائے گا .کسی بچے کا پریکٹیکل نہیں لیا جائے گا، سب کو اس کے 50 فیصد نمبر دیئے جائیں گے. باقی 50 فیصد نمبر پیپرز میں حاصل کردہ نمبروں کے مطابق دیئے جائیں گے، جن بچوں کو موجود دی گئی پالیسی پسند نہیں وہ آئندہ سال اپنی خواہش کےمطابق امتحانات دے کرنتائج حاصل کر سکتے ہیں. دوبارہ امتحانات دینے کیلئے طلب علم کو 15 جولائی تک بورڈ سے رابطہ کرنا ہوگا. انہوں نے کہا کہ بورڈکی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کارڈ میں بچوں کی کارکردگی کا باخوبی اندازہ لگایا جا سکے گا. حکومت کی بنائی گئی پالیسی کے مطابق نویں اور گیارہویں جماعت کا رزلٹ رکھنے والے طلباء کو اگلی جماعتوں میں پروموٹ کر دیا جائے گا، گیارہویں اور بارہویں کا ایک ساتھ امتحانات دینے والے طلباء کے مخصوص امتحانات ستمبر اور نومبر میں ہوں گے، گیارہویں کے رزلٹ سے نہ مطمئن، گیارہویں کا رزلٹ نہ رکھنے والے اور چند مضامین کا امتحانات دینے کے خواہشمند طلباء بھی مخصوص امتحانات میں حصہ لے سکیں گے. مخصوص امتحانات لینے کا فیصلہ بھی اس وقت حالات کا جائزہ لے کر کریں گے.واضح رہے اس سے قبل جمعرات کو بلائے جانے والے اجلاس میں تمام صوبائی وزیر تعلیم شفقت محمود نے بھی پریس کانفرنس کی تھی ، ان کا کہنا تھا کہ تمام فیصلے باہمی اتفاق رائے اور مشاورت سے کئے گئے،

بچوں کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا. انہوں نے کہا کہ جن بچوں کے پاس نویں اور گیارہویں کا رزلٹ موجود ہے ان کو دسویں اور بارہویں جماعت میں ترقی دے دی گئی ہے. ان بچوں کے گزشتہ سال کے نمبر شمار کئے جائیں گے، اکثر دیکھا گیا ہے کہ نویں کے مقابلہ میں دسویں کا رزلٹ بہتر ہوتا ہے اس لئے فیصلہ کیا گیا کہ دسویں کے نمبروں میں تین فیصد اضافہ ہو گا. انہوں نے کہاکہ چالیس فیصد مضامین میں فیل طلباء کو پاسنگ مارکس دیئے جائیں گے. گیارہویں اور بارہویں کے ایک ساتھ امتحانات دینے والے طلباء کے مخصوص امتحانات ہوں گے، مخصوص امتحانات ستمبر اور نومبر میں ہوں گے. گیارہویں میں اپنے رزلت سے مطمئن نہ ہونے والے طلباء بھی مخصوص امتحانات دے سکیں گے جن کے پاس گیارہویں کا رزلت نہیں ہے، ان کے بھی امتحانات ہوں گے اور جو چند مضامین کا امتحان دینا چاہتے ہیں وہ بھی مخصوص امتحانات میں حصہ لے سکیں گے. وفاقی وزیر تعلیم نے طلباء کو ہدایت کی کہ مخصوص امتحانات میں حصہ لینے والے طلباء یکم جولائی تک اپنے متعلقہ بورڈز کو آگاہ کر دیں. انہوں نے کہا کہ مخصوص امتحانات کا بھی ہم حالات کا جائزہ لے کر کریں گے. یونیورسٹیوں کے بارے میں ایک سوال پر وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ یونیورسٹیوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت کریں .

مزید پڑھیں! موبائل فون پر دوستی تین بچوں کے باپ کی جان لے گئی

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!