شاہد آفریدی نے مشکل وقت میں پڑوسی ملک کے دل جیت لیے! بوم بوم لالہ ‘‘ کو خراج تحسین پیش کیا گیا

ڈھاکہ (آن لائن نیوز) پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے کووڈ-19 کی وبا سے نمٹنے کے لیے سرحدوں کی بندشوں سے ماورا ہوکر بنگلہ دیش کے عوام کی مدد کے لیے کی جانے والی کوششوں میں اپنا حصہ ڈال دیا۔ رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش کے اسٹار بلے باز اوروکٹ کیپر مشفق الرحیم نے کووڈ-19 ریلیف فنڈ کے لیے کوششوں کے سلسلے میں

سری لنکا کے خلاف 2013 میں بنگلہ دیش کے لیے پہلی ڈبل سنچری بنانے والے بلے کو نیلامی کے لیے پیش کردیا تھا۔ شاہد آفریدی نے مشفق الرحیم کا بلا 20 ہزار ڈالر میں حاصل کرلیا۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے بھی شاہد آفریدی کے اس قدم کو سراہتے ہوئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام میں کہا کہ ‘مشفق الرحیم کو ایک خریدار مل گیا’۔ آئی سی سی نے تحریر کیا کہ ‘پاکستان کے آل راؤنڈر شاہد آفریدی نے اپنے ادارے کی جانب سے بلا خرید کر اچھے مقصد میں شمولیت کرلی ہے’۔ ڈھاکا میں موجود مشفق الرحیم نے اس عظیم مقصد کے لیے تعاون کرنے پر شاہد آفریدی کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘میں شاہد بھائی کو بڑا سراہتا ہوں کہ انہوں نے رابطہ کی اور مدد کی پیش کش کی’۔ بنگلہ دیش کے تجربہ کار کھلاڑی کا کہنا تھا کہ ‘اس بحرانی صورت حال میں ہم سرحدوں سے ماورا ہو کو متحد ہیں اور ہم اپنے ملک کے شہریوں کے لیے اس کا اظہار کررہے ہیں’۔ شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ کسی قوم کا نہیں بلکہ ایک مقصد ہے۔ مشفق الرحیم نے کہا کہ ‘میں میدان میں ان کے ساتھ محظوظ ہوتا ہوں چاہے ان کے ساتھ کھیلوں یا ان کے خلاف کھیلوں، میرے خیال میں زندگی کے دیگر شعبوں سے بھی لوگوں کو آگے بڑھ کر مدد کرنی چاہیے’۔ ان کا کہنا تھا کہ چند روز کوریئر سروس کے ذریعے بلا شاہد آفریدی کو بھیجوا دوں گا۔

شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ ‘مجھے بنگلہ دیش کے لوگوں سے ہمیشہ پیار اور محبت ملی ہے اور جب مجھے مشفق الرحیم کے کام کا علم ہوا تو میں نے ان سے رابطہ کرکے اپنے حیثیت کے مطابق حصہ ڈالنے کی پیش کش کی’۔ انہوں نے کہا کہ ‘اس طرح کے تعاون اور احترام کے رویے سے دونوں ممالک کے عوام قریب آسکتے ہیں’۔ خیال رہے کہ بنگلہ دیش میں اس وقت کورونا وائرس کے 20 ہزار 995 متاثرین رپورٹ ہوچکے ہیں اور مزید 16 اموات کے بعد مجموعی طور پر 314 افراد اس وبا کے باعث لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ کورونا وائرس کے 930 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد مجموعی تعداد میں مزید اضافہ ہوگیا ہے جبکہ 4 ہزار 117 افراد صحت یاب ہوچکے ہیں۔ بنگلہ دیش کے عوام کی جانب سے گزشتہ چند ہفتوں میں صںعتوں میں کام کی بحالی اور بےروزگاری کے خاتمے کے لیے لاک ڈاؤن کے باوجود شدید احتجاج ہوئے تھے۔ عوام کا مطالبہ تھا کہ انہیں متعلقہ صنعتوں سے تنخواہیں جاری کی جائیں اور دہاڑی داروں کے لیے انتظام کیا جائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!