اگر شوہر اور بیوی یہ کام کریں تو اُنکا نکاح ٹوٹ جاتا ہے، فتوی آگیا

کائنات نیوز! مصر کے نامور مذہبی سکالر راشد حسن خلیل کا کہنا ہے کہ ازدواجی فرائض کی ادائیگی کے دوران مکمل برہنگی اختیار کرنے والے جوڑے کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے اور ایسے جوڑے کو میاں بیوی تصور نہیں کیا جا سکتا۔ راشد حسن خلیل الازہر یونیورسٹی کی فیکلٹی آف شریعہ کے سابق ڈین ہیں۔ انہوں نے یہ فتویٰ ایک مصری ٹی وی چینل پر براہ راست

نشر کئے جانے والے مباحثے کے دوران جاری کیا، جس پر مصر کے ساتھ عالمی سوشل میڈیا پر بھی ہنگامہ برپاہوگیا ہے۔ راشد حسن خلیل کے فتویٰ کی کچھ دیگر مذہبی سکالرز نے تائید کی ہے ۔کہ ہر وہ کام جو میاں بیوی کو مزید قریب لاسکتا ہے اسے کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ اسی طرح ایک اور مذہبی سکالر عبدالمتیع کا بھی کہنا تھا کہ میاں بیوی کے تعلق میں غیر فطری جنسی فعل کے سوا ہر بات کی اجازت ہے۔ ایک عورت آنسو بہاتے ہوئے امیر المومنین حضرت عمرؓ کے پاس آئی اس کا حال یہ تھا کہ کپڑے میلے کچیلے تھے، ننگے پاؤں تھی، پیشانی اور رخساروں سے خون بہہ رہا تھا اور اس عورت کے پیچھے ایک طویل القامت آدمی کھڑا تھا،اس آدمی نے زور دار آواز میں کہا: اے زانیہ، حضرت عمرؓ نے فرمایا: مسئلہ کیا ہے؟ اس آدمی نے کاہ کہ اے امیر المومنین! اس عورت کو سنگسار کریں،میں نے اس سے شادی کی تھی اور اس نے چھ مہینہ میں ہی بچہ جنم دیا ہے. حضرت عمرؓ نے اس عورت کو سنگسار کرنے کا حکم دے دیا. حضرت علیؓ نے جو حضرت عمرؓ کے برابر بیٹھے تھے، کہا: امیر المومنین! یہ عورت زنا سے بری ہے. حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ وہ کیسے؟

حضرت علیؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’وَ حَمْلُہ وَ فِصَالُہ ثَلٰثُوْنَ شَھْراً‘‘ (الاحقاف:15) اور دوسری جگہ فرمایا ہے: ’’وَ فِصَالُہ فِیْ عَامِیْنِ‘‘ (لقمان:14) تو جب ہم اس سے رضاعت کی مدت نکالیں گے جو کہ تیس مہینوں میں سے چوبیس مہینے ہیں تو چھ ماہ ہی باقی رہ جائیں گے، لہٰذا ایک عورت چھ ماہ میں بچہ جن سکتی ہے. (یہ سن کر) حضرت عمرؓ کا چہرہ دمک اٹھا اور فرمایا: اگر (آج) علیؓ نہ ہوتے تو عمرؓ ہلاک ہو جاتا.

مزید پڑھیں! جن عورتوں میں یہ 3نشانیاں موجود ہوں ان سے فوراً شادی کر لینی چاہیے

اپنی رائے کا اظہار کریں

error: Content is protected !!